چھ ماہ میں صنفی تشدد کے 3 ہزار 172 واقعات رپورٹ، خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ تشویشناک
اسلام آباد: ملک میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران صنفی بنیاد پر تشدد کے 3 ہزار 172 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں، جن میں قتل، اغوا، زیادتی، گھریلو تشدد، تشدد اور دیگر جرائم شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خواتین اور دیگر متاثرین کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے، اس لیے اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے ایسے واقعات سامنے آئے، جن میں خواتین کو قتل، اغوا، جنسی تشدد، ہراسانی اور گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ متاثرین کو قانونی تحفظ، فوری انصاف اور معاونت کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
سماجی کارکنوں کے مطابق صنفی تشدد کی روک تھام کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ عوامی آگاہی، خواتین کی معاشی خودمختاری، پولیس نظام کی بہتری اور متاثرین کے لیے محفوظ شکایتی نظام بھی ضروری ہے۔





