ملازمت دینے والے مصنوعی ذہانت سے لیس بزنس اسکول کے گریجویٹس چاہتے ہیں، مگر کیا وہ جانتے بھی ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے؟

ملازمت دینے والے مصنوعی ذہانت سے لیس بزنس اسکول کے گریجویٹس چاہتے ہیں، مگر کیا وہ جانتے بھی ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے؟

دنیا بھر میں کمپنیاں اب ایسے بزنس اسکول گریجویٹس کی تلاش میں ہیں جو مصنوعی ذہانت کے استعمال سے واقف ہوں، لیکن ایک اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا ادارے واقعی سمجھتے ہیں کہ “مصنوعی ذہانت سے لیس” امیدوار سے ان کی اصل توقعات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق صرف مصنوعی ذہانت کے چند اوزار چلانا کافی نہیں۔ مستقبل کے کاروباری رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کو فیصلہ سازی، مارکیٹ کے تجزیے، مالی منصوبہ بندی، صارفین کے رویوں کو سمجھنے اور کاروباری مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر انداز میں کیسے استعمال کیا جائے۔

کئی کاروباری ادارے ایسے امیدوار چاہتے ہیں جو روایتی انتظامی مہارتوں کے ساتھ ڈیٹا کو سمجھنے، مصنوعی ذہانت کے نتائج کا جائزہ لینے اور اس ٹیکنالوجی کے خطرات و حدود کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی کمپنیاں ابھی تک واضح نہیں کر سکیں کہ انہیں مصنوعی ذہانت میں مہارت رکھنے والے ملازمین سے دراصل کیا چاہیے۔ صرف یہ کہنا کہ “مصنوعی ذہانت جاننے والے افراد درکار ہیں” کافی نہیں، کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے مقاصد اور ضروری مہارتیں ہر شعبے میں مختلف ہو سکتی ہیں۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ بزنس اسکول نئی نسل کو صرف مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرنا نہ سکھائیں بلکہ انہیں ایسے رہنما بنائیں جو انسان اور مشین کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے کاروباری فیصلے کر سکیں

قومی خبریں سے مزید