ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دے دی، عالمی نگرانی کے اہم حفاظتی اقدامات شامل نہیں

ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دے دی، عالمی نگرانی کے اہم حفاظتی اقدامات شامل نہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک جوہری تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت امریکہ ریاض کو جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی فراہم کرے گا، تاہم اس معاہدے میں وہ بعض اہم عالمی حفاظتی ضمانتیں شامل نہیں ہیں جو جوہری ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال کو روکنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔

معاہدے کے تحت امریکہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کرے گا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں وہ سخت بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار موجود نہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ فراہم کی جانے والی ٹیکنالوجی کو جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جوہری توازن کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے درمیان طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ماضی میں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کے علاقائی حریف ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو سعودی عرب بھی اپنی جوہری صلاحیتیں تیار کرنے کی کوشش کرے گا۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کا مقصد توانائی کی ضروریات پوری کرنا اور دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریجک تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم ماہرینِ عدم پھیلاؤِ جوہری ہتھیاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی ملک کو حساس جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ریاض کو ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے

قومی خبریں سے مزید