بھارت کے امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل بھی جنتر منتر کے احتجاج میں شامل، آخر کیوں؟

بھارت کے امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل بھی جنتر منتر کے احتجاج میں شامل، آخر کیوں؟

بھارت میں طلبہ کے مسائل اور تعلیمی نظام سے متعلق احتجاج میں ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملا، جہاں خوشحال خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ نوجوان جو آرام سے گھروں میں رہ سکتے تھے، بارش میں کھڑے رہے، آنسو گیس کا سامنا کیا اور پولیس کارروائی کے خطرے کے باوجود جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ میں شریک ہوئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ عام طور پر بھارت کی مراعات یافتہ نوجوان نسل کو سیاست اور احتجاجی تحریکوں سے دور سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ مظاہروں میں اس طبقے کی شرکت اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ تعلیم، روزگار اور مستقبل کے مواقع جیسے مسائل اب صرف غریب یا متوسط طبقے تک محدود نہیں رہے۔

احتجاج میں شریک بعض نوجوانوں کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف ایک امتحان یا داخلہ نظام کا نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور اپنے مستقبل کے تحفظ کا ہے۔ ان کے مطابق اگر تعلیمی نظام میں خامیاں موجود رہیں تو اس کا اثر ہر طبقے کے طلبہ پر پڑتا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی معاشی پس منظر سے ہو۔

جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے سنے اور امتحانات و داخلوں کے نظام میں اصلاحات کرے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مراعات یافتہ نوجوانوں کی اس طرح کی شرکت ایک اہم علامت ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ نئی نسل اب صرف معاشی کامیابی نہیں بلکہ نظام کی شفافیت، جواب دہی اور مواقع کی برابری جیسے معاملات کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی بھارتی سیاست میں نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کر سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید