دس ارب ڈالر کے بی بی سی مقدمے میں ٹرمپ کو کاروباری مالی تفصیلات ظاہر کرنے کا حکم، عدالتی فیصلہ خاندان کے کاروباری معاملات پر روشنی ڈال سکتا ہے
واشنگٹن: ایک امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا ہے کہ وہ بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر کے ہتکِ عزت کے مقدمے کے سلسلے میں اپنے کاروباری اداروں کی مالی معلومات پیش کریں۔ عدالتی حکم کو ٹرمپ خاندان کے مختلف کاروباری منصوبوں کی تفصیلات سامنے آنے کا ممکنہ راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالت کا فیصلہ اس مقدمے کے دوران سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے میڈیا ادارے بی بی سی کے خلاف بھاری مالی ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی کارروائی کے لیے ٹرمپ کے کاروباری مفادات، آمدنی کے ذرائع اور متعلقہ مالی معاملات کی معلومات ضروری ہو سکتی ہیں۔
یہ حکم ٹرمپ خاندان کے ان متعدد کاروباری منصوبوں پر نئی توجہ مرکوز کر سکتا ہے جو رئیل اسٹیٹ، برانڈنگ، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق بڑے ہرجانے کے مقدمات میں دونوں فریقوں کو اکثر اپنے دعووں اور نقصانات کو ثابت کرنے کے لیے مالی دستاویزات پیش کرنا پڑتی ہیں۔ تاہم سابق یا موجودہ صدر کے کاروباری معاملات سے متعلق ایسی معلومات کا سامنے آنا سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے میڈیا اداروں کے ساتھ قانونی تنازعات میں رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بعض ذرائع ابلاغ ان کے خلاف جانبدارانہ رویہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی عہدہ رکھنے والے افراد کے مالی معاملات میں زیادہ شفافیت ضروری ہے۔
یہ عدالتی فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ کے کاروباری معاملات، اثاثوں میں اضافے اور سیاسی حیثیت کے درمیان تعلق پر امریکہ میں پہلے ہی وسیع بحث جاری ہے





