امیر اور مشہور شخصیات کو خفیہ سفری سہولت دینے والی لگژری ٹیکسی کمپنی نیویارک کے ڈیٹا قوانین سے پریشان
نیویارک: اعلیٰ درجے کی ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی کمپنی ویلی (Wheely)، جو مشہور شخصیات، کاروباری رہنماؤں اور دولت مند صارفین کو غیر نمایاں گاڑیوں میں سفر کی سہولت دیتی ہے، نیویارک شہر کے اس قانون کو چیلنج کر رہی ہے جس کے تحت کرائے پر چلنے والی گاڑیوں کو مسافروں کے سفر سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویلی اپنے صارفین کی رازداری کو اپنی سب سے بڑی خصوصیت قرار دیتی ہے۔ کمپنی کے ڈرائیوروں سے رازداری کے معاہدے بھی کروائے جاتے ہیں تاکہ مشہور شخصیات اور بااثر افراد کے سفر کی معلومات خفیہ رہیں۔
تاہم نیویارک شہر کے ضابطوں کے مطابق کرائے پر چلنے والی گاڑیوں کو اپنی نقل و حرکت کا ڈیٹا جمع کرانا پڑتا ہے، جس میں یہ معلومات شامل ہوتی ہیں کہ گاڑی کہاں سے مسافر کو اٹھاتی ہے اور کہاں اتارتی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ نظام اس کے صارفین کی نجی زندگی کے تحفظ کے اصولوں سے ٹکراتا ہے۔
ویلی کا کہنا ہے کہ اس کے صارفین میں ایسے افراد شامل ہیں جو سیکیورٹی اور رازداری کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں، اور ان کے سفر کی تفصیلات کا سرکاری ڈیٹا نظام میں شامل ہونا ان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
دوسری جانب نیویارک حکام کا مؤقف ہے کہ سفری ڈیٹا کا حصول شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کی نگرانی، مسافروں کے تحفظ، کرایوں کے نظم و ضبط اور عوامی پالیسی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
یہ تنازع ایک بڑے سوال کو نمایاں کر رہا ہے کہ جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی شہری سہولتوں کو بہتر بنا رہی ہے، وہاں نجی معلومات کے تحفظ اور عوامی نگرانی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق دولت مند اور مشہور افراد کے لیے خصوصی رازداری کی خدمات کی طلب بڑھ رہی ہے، لیکن بڑے شہروں کے حکام بھی عوامی مفاد، شفافیت اور نگرانی کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے





