Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستانی فری لانسرز نے ڈیجیٹل معیشت میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا، خطے میں تیزی سے ابھرتا ہوا شعبہ

پاکستانی فری لانسرز نے ڈیجیٹل معیشت میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا، خطے میں تیزی سے ابھرتا ہوا شعبہ

پاکستانی فری لانسرز نے ڈیجیٹل معیشت میں ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 1 ارب 76 کروڑ ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل کر لیا ہے۔

فری لانسرز ایسے آزاد پیشہ ور افراد ہوتے ہیں جو کسی ایک ادارے کے مستقل ملازم ہونے کے بجائے دنیا بھر کے گاہکوں کو آن لائن خدمات فراہم کرکے آمدن حاصل کرتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں 78 فیصد اضافہ ہوا۔ صرف جون 2026 میں فری لانسرز نے 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کمائے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 69 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستانی فری لانسرز نے یہ آمدن سافٹ ویئر تیاری، ویب سائٹ اور موبائل ایپلی کیشنز، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن تعلیم، مواد نویسی، ترجمہ، ویڈیو ایڈیٹنگ اور دیگر آن لائن کاروباری خدمات کے ذریعے حاصل کی۔

خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں دیکھا جائے تو بھارت ڈیجیٹل خدمات کے شعبے میں دنیا کی بڑی طاقتوں میں شامل ہے۔ تاہم بھارت فری لانسرز کی الگ آمدن کے اعداد و شمار جاری نہیں کرتا بلکہ انہیں وسیع تر آئی ٹی اور خدماتی برآمدات میں شمار کیا جاتا ہے۔ بھارت کی مجموعی خدماتی برآمدات مالی سال 2025-26 میں 421 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ (The Economic Times⁠)

بنگلہ دیش میں بھی فری لانسنگ اور آئی ٹی خدمات کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں حکومت نے سافٹ ویئر اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات کے فروغ کے لیے مراعات فراہم کی ہیں۔ تاہم بنگلہ دیش میں بھی فری لانسرز کی الگ برآمدی آمدن کا مکمل سرکاری حجم دستیاب نہیں ہے۔ (bssnews.net⁠)

ماہرین کے مطابق پاکستان کا 1 ارب 76 کروڑ ڈالرز کا فری لانسنگ شعبہ اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان آبادی، ڈیجیٹل مہارتوں اور عالمی آن لائن منڈی تک رسائی کے ذریعے پاکستان خدمات کی برآمدات کے ایک نئے میدان میں اپنی جگہ بنا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید