سکھر میں شراب پینے کے الزام میں ہندو نوجوان کو تشدد کرکے جیل میں مار ڈالا، شراب فروخت کرنے پر کوئ پابندی نہیں
سکھر : سکھر سینٹرل جیل میں قیدی کو تشدد کرکے ہلاک کرنے کے بعد جیل انتظامیہ نے خودکشی کا رنگ دیدیا جسے ورثا نے تسلیم کرنے سے انکار کرکے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جیل انتظامیان کے مطابق 24 سالہ دینش کمار ولد چند لال نے جیل اسپتال کے واش روم میں جا کر رسی کے ساتھ خودکشی کر لی،نوجوان قیدی کو سکھر کے سی سیکشن تھانے کی پولیس نے دو ماہ قبل شراب رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا قیدی کو 11 مئی کو جیل منتقل کیا گیا تھا، آج قیدی بیمار ہونے کی وجہ سے جیل اسپتال میں داخل تھا، جہاں وہ واش روم میں گیا اور سٹول پر پڑی رسی سے خودکشی کر لی،مقتول قیدی کی ورثاء نے لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ورثا کا الزام ہے مقتول کو شراب پینے کے جرم میں پکڑنے والے شہر بھر میں شراب فروخت کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ، یہاں واضع رہے سندھ بھر میں شراب کے قریبا ڈیڑھ سو سے زائد شراب کے ڈپو دو فیصد ہندو آبادی کے نام پر کھلے ہیں اور ان شراب کے ڈپوؤں کے لائنسنس صوبے کے اراکین اسمبلی انکے رشتے داروں یا پھر پیپلز پارٹی کے ہندو رہنماؤں کے نام ہیں اور یہاں شراب خریدنے والوں کی بڑی اکثریت مسلمان ہے اور کھلے عام شراب کی فروخت کی جاتی ہے ، جبکہ پورے صوبے میں موٹر سائیکلوں کے ذریعے گھروں تک سپلائ کا پورا نیٹ ورک کراچی سمیت پورے سندھ میں کھلے عام کام کررہا ہے





