روچ ڈیل گینگ کے سرغنہ کی ملک بدری کا معاملہ پاکستان سے متعلق نہیں، برطانوی حکومت کا اندرونی مسئلہ ہے: پاکستان

روچ ڈیل گینگ کے سرغنہ کی ملک بدری کا معاملہ پاکستان سے متعلق نہیں، برطانوی حکومت کا اندرونی مسئلہ ہے: پاکستان

اسلام آباد/لندن: پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ برطانیہ کے شہر روچ ڈیل میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے میں سزا یافتہ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی ملک بدری کا معاملہ مکمل طور پر برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ شبیر احمد نے اپنی بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری، وہاں کی عدالت نے اسے برطانوی سرزمین پر کیے گئے سنگین جرائم میں سزا دی، اس لیے اس کی رہائی، نگرانی یا قانونی حیثیت سے متعلق فیصلے برطانوی حکام کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی سخت مذمت کرتا ہے اور ایسے گھناؤنے جرائم پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے، تاہم پاکستانی حکومت کا اس شخص کے مقدمے یا برطانیہ کے قانونی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔
شبیر احمد روچ ڈیل گینگ کے ان افراد میں شامل تھا جنہیں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ اسے 2012 میں متعدد جنسی جرائم کے الزام میں 22 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں اس کی ملک بدری کے مطالبات اس کی جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ زور پکڑ گئے ہیں۔ تاہم 1971 کے امیگریشن قانون کی بعض شقوں کی وجہ سے اس کی ملک بدری کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا ہے، جبکہ برطانوی حکومت قانون میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کو پاکستان سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ جرم، مقدمہ اور سزا برطانیہ کے نظامِ انصاف کے تحت ہوئے۔

قومی خبریں سے مزید