ایلون مسک کا میمفس مصنوعی ذہانت مرکز، ڈیٹا مراکز کے خلاف بڑھتی عوامی مزاحمت کا مرکز بن گیا

ایلون مسک کا میمفس مصنوعی ذہانت مرکز، ڈیٹا مراکز کے خلاف بڑھتی عوامی مزاحمت کا مرکز بن گیا

امریکی ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے پیمانے پر قائم کیے گئے ڈیٹا مراکز اب ملک بھر میں ایک نئی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ مقامی آبادی ان مراکز سے پیدا ہونے والے شور، ماحولیاتی اثرات اور توانائی کے استعمال پر سوال اٹھا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسک کی کمپنیوں نے میمفس میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو انتہائی تیز رفتاری سے وسعت دی، لیکن اس توسیع کے ساتھ مقامی رہائشیوں کو شور، بجلی کے بڑھتے استعمال اور اخراج سے متعلق شکایات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ معاملہ اب صرف میمفس تک محدود نہیں رہا۔ امریکہ کے مختلف علاقوں میں بڑے ڈیٹا مراکز کے خلاف احتجاج، قانونی کارروائیاں اور نئی پالیسی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ شہری گروہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے منصوبوں کی منظوری سے پہلے ان کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جائے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے بڑے ڈیٹا مراکز قائم کر رہی ہیں۔ لیکن ان مراکز کے لیے بہت زیادہ بجلی، پانی اور زمین درکار ہوتی ہے، جس سے مقامی سطح پر مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

میمفس کا معاملہ اب ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے مراکز کی تعمیر تیزی سے کی جائے اور مقامی آبادی کو اعتماد میں نہ لیا جائے تو عوامی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔

صرف ایلون مسک کی کمپنیوں ہی نہیں بلکہ مائیکروسافٹ، میٹا، گوگل، اوپن اے آئی اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی امریکہ بھر میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا مراکز قائم کر رہی ہیں۔ ان منصوبوں کے خلاف عوامی مخالفت میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اب صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ توانائی، ماحولیات اور مقامی سیاست کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی دوڑ میں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ دنیا جدید ترین ٹیکنالوجی کے لیے کتنی توانائی اور وسائل خرچ کرنے کو تیار ہے، اور اس قیمت کو مقامی آبادی کس حد تک قبول کرے گی

قومی خبریں سے مزید