لاہور ہائیکورٹ کی ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن پالیسی منظور، عدالتی افسران کو سرکاری گاڑیاں رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت
لاہور: لاہور ہائیکورٹ (ایل ایچ سی) نے پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے عدالتی افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن پالیسی منظور کر لی ہے، جس کے تحت افسران کو اپنی زیرِ استعمال سرکاری گاڑیاں فرسودگی (ڈیپریسی ایشن) کے حساب سے مقررہ قیمت ادا کر کے خریدنے کا اختیار دیا گیا ہے۔نئی پالیسی کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت عدالتی افسران کو ذاتی استعمال کے لیے سرکاری گاڑی، ایندھن، مرمت اور ڈرائیور کی سہولت ختم کر کے اس کے بدلے ماہانہ ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن الاؤنس دیا جائے گا، جس کی شرح وقتاً فوقتاً پٹرول کی قیمتوں اور معاشی حالات کے مطابق تبدیل کی جا سکے گی۔
پالیسی کے مطابق جو عدالتی افسران پہلے سے سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، انہیں یہ گاڑیاں خریدنے کا پہلا حق حاصل ہوگا۔ گاڑی کی قیمت کا تعین اصل خریداری قیمت پر فرسودگی کی شرح لگا کر کیا جائے گا، جس میں پہلے سال 15 فیصد اور اس کے بعد ہر سال 10 فیصد کمی شامل ہوگی۔ تاہم گاڑی کی فروخت قیمت ایک حد سے کم نہیں ہو گی:
- 1000 سی سی تک گاڑیوں کے لیے کم از کم 2 لاکھ روپے
- 1300 سی سی یا اس سے زیادہ گاڑیوں کے لیے کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
گاڑی خریدنے والے افسر کو مکمل رقم ایک ہی بار لاہور ہائیکورٹ رجسٹرار کے نام پے آرڈر یا ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔ خریداری کے بعد گاڑی کو نجی گاڑی کے طور پر رجسٹر کروانا ہوگا، جبکہ سرکاری نمبر پلیٹ اور سبز نمبر پلیٹ واپس کرنا ہوں گی۔ رجسٹریشن، ٹرانسفر اور دیگر ٹیکس کے اخراجات بھی خریدار افسر برداشت کرے گا۔
پالیسی کے تحت ہر ضلع میں سرکاری اور پروٹوکول امور کے لیے گاڑیوں کا ایک مرکزی پول برقرار رکھا جائے گا، جبکہ مونیٹائزیشن کے نتیجے میں اضافی بچ جانے والی گاڑیوں کی تفصیلات ہائیکورٹ کو فراہم کرنا ہوں گی۔
یہ سہولت صرف ان عدالتی افسران کے لیے ہوگی جنہیں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے باقاعدہ سرکاری گاڑیاں الاٹ کی گئی تھیں۔ دورانِ ملازمت انتقال کرنے والے عدالتی افسر کی بیوہ یا شریکِ حیات کو بھی مخصوص شرائط کے تحت گاڑی خریدنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد سرکاری گاڑیوں کے نظام کو بہتر بنانا، اخراجات کو منظم کرنا اور عدالتی افسران کے لیے ٹرانسپورٹ سہولت کا ایک یکساں نظام قائم کرنا ہے۔





