ٹرمپ کے نامزد امیدواروں کے لیے کانگریس میں سب سے مشکل سوال، 2020 کا انتخاب کون جیتا تھا؟
واشنگٹن — ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے نامزد امیدواروں سے ایک سوال بار بار پوچھا جا رہا ہے: 2020 کا صدارتی انتخاب کس نے جیتا تھا؟
صدر ٹرمپ کی جانب سے 2020 کے انتخابات میں شکست کے باوجود یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ انتخاب ان سے چرایا گیا تھا، حالانکہ اس دعوے کو متعدد عدالتوں، انتخابی حکام اور جائزوں میں ثابت نہیں کیا جا سکا۔
تازہ ترین معاملہ جے کلیٹن کا ہے، جنہیں صدر ٹرمپ نے قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔ بدھ کو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے ان کی سماعت کے دوران ڈیموکریٹ ارکان نے ان سے پوچھا کہ کیا جو بائیڈن نے 2020 کا صدارتی انتخاب جیتا تھا؟
کلیٹن نے براہ راست “ہاں” یا “نہیں” میں جواب نہیں دیا۔ انہوں نے بھی ان متعدد دیگر نامزد امیدواروں کی طرح محتاط اور تکنیکی جواب دینے کا راستہ اختیار کیا جن سے گزشتہ دو برسوں کے دوران یہی سوال پوچھا جاتا رہا ہے۔
ڈیموکریٹ ارکان کا کہنا ہے کہ یہ سوال محض ماضی کے انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کا امتحان ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں اہم عہدوں پر آنے والے افراد امریکی انتخابی نظام اور جمہوری عمل کے بارے میں کیا مؤقف رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف رہا ہے کہ انتخابی عمل سے متعلق خدشات اٹھانا سیاسی حق ہے، جبکہ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ 2020 کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنا جمہوری اداروں پر اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ سوال اب ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نامزد ہونے والے کئی امیدواروں کی سینیٹ توثیق کے عمل میں ایک اہم سیاسی امتحان بن چکا ہے





