امریکی قومی قرضہ معیشت کے حجم سے بڑھ گیا، ماہرین آئینی ترمیم کے ذریعے پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں
امریکہ کا قومی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 100 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ کانگریس کے زیادہ تر ارکان اسے قابو میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے آئین میں ترمیم پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
عوام کے پاس موجود امریکی قومی قرضہ اس وقت تقریباً 31.68 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو ملکی معیشت کے حجم سے کچھ زیادہ ہے۔ غیر جماعتی کانگریشنل بجٹ دفتر کے مطابق اگر واشنگٹن اپنی موجودہ مالیاتی پالیسی جاری رکھتا ہے تو آئندہ 30 برس میں یہ قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 175 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تاریخ کے کئی تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کسی ملک کا عوامی قرضہ اس کی معیشت کے 90 فیصد سے زیادہ ہو جائے تو اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہونے لگتی ہے اور بڑے مالی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
قومی قرضے کا ایک بڑا مسئلہ اس پر ادا کیا جانے والا سود ہے۔ مالی سال 2025 میں امریکی شہریوں سے وصول کیے گئے انفرادی آمدنی کے ٹیکس کا 36.5 فیصد حصہ صرف قومی قرضے پر سود ادا کرنے میں استعمال ہوا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی شہریوں کے ٹیکس کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ حکومت کی بنیادی خدمات، عوامی منصوبوں یا دیگر ضروری اخراجات کے بجائے صرف قرض کے سود کی ادائیگی میں چلا گیا۔
ماہرین اس صورتحال کو ایک “قرض بم” قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں مالی بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو اخراجات، آمدنی اور قرضوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے





