پاک ایران سرحد کے قریب دہشت گرد حملہ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 مزدور جاں بحق، وزیراعظم کی شدید مذمت
کوئٹہ — بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں مسلح دہشت گردوں نے دکانوں پر فائرنگ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 مزدوروں کو قتل کر دیا، جس کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
واشک کے ڈپٹی کمشنر عبدالمجید سرپراہ نے بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کو پاک ایران سرحد کے قریب واقع ماشکیل قصبے میں پیش آیا، جہاں موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ان دکانوں پر فائرنگ کی جہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدور کام کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد کو متعدد گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے منتقل کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی بربریت پر مبنی اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بلوچستان میں آپریشن شعبان اور دیگر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق 5 جولائی سے اب تک صوبے میں 109 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 108 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آپریشن سے متعلق سرگرمیوں کا معائنہ کیا ہے۔
پاک ایران سرحد سے متصل علاقوں میں امن و امان کی صورتحال ایک عرصے سے چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں کے باعث مقامی آبادی، مزدوروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خطرات کا سامنا رہتا ہے





