تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ، بند باندھنے والا عارضی ڈھانچہ گرنے کا ذمہ دار ٹھیکیدار، مشیر اور واپڈا قرار، لاگت میں 258 فیصد اضافہ
اسلام آباد:تربیلا پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے میں عارضی حفاظتی بند کے گرنے کے معاملے پر قائم حکومتی تحقیقاتی کمیٹی نے منصوبے کے تینوں اہم فریقوں، یعنی ٹھیکیدار، مشاورتی ادارے اور واپڈا کو ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق واقعے کی بڑی وجوہات میں معاہدے کے بعد ڈیزائن میں غیر مجاز تبدیلیاں شامل تھیں، جنہوں نے منصوبے کی تعمیراتی صورتحال کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے میں پیش آنے والے اس واقعے کے باعث منصوبہ کم از کم دو سال تاخیر کا شکار ہو گیا ہے، جبکہ اس کی لاگت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 82 ارب روپے تھی، جو اب بڑھ کر 317 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، یعنی لاگت میں 258 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق لاگت میں اضافے کے باعث اگلے 30 برس کے دوران بجلی پیدا کرنے کی اوسط لاگت تقریباً27 سے 28 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے، جو ملک میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں اب تک کی بلند ترین لاگت ہو گی۔
حکام کے مطابق اگر لاگت اسی سطح پر برقرار رہی تو منصوبہ معاشی اعتبار سے غیر مؤثر اور طویل مدت میں غیر پائیدار ثابت ہو سکتا ہے۔
تربیلا پانچواں توسیعی پن بجلی منصوبہ عالمی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری بینک کے تقریباً ۷۰۰ ملین ڈالر قرضوں سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ پہلے 2026 تک مکمل ہونا تھا، تاہم اب اس کی تکمیل کی نئی تاریخ جون 2028 مقرر کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق تربیلا جیسے بڑے آبی منصوبے پاکستان کی توانائی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہیں، لیکن تعمیراتی نگرانی، ڈیزائن میں تبدیلیوں اور منصوبہ بندی کی خامیوں کے باعث تاخیر اور اضافی اخراجات قومی وسائل پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں





