خضدار حملہ، قبائلی رہنما کا پولیس پر غفلت کا الزام، 17 حامیوں کی ہلاکت پر فوری کارروائی کا مطالبہ

خضدار حملہ، قبائلی رہنما کا پولیس پر غفلت کا الزام، 17 حامیوں کی ہلاکت پر فوری کارروائی کا مطالبہ

خضدار — پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور قبائلی شخصیت میر شفیق الرحمان مینگل نے خضدار میں اپنے گھر پر ہونے والے حملے کے دوران مبینہ پولیس غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

میر شفیق الرحمان مینگل نے اپنے آبائی علاقے وڈھ میں دیگر قبائلی عمائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 8جولائی کو ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے کے دوران پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی، جس کے نتیجے میں ان کے کم از کم 17 حامی ہلاک ہوئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور قریبی پولیس لائنز میں داخل ہوئے، وہاں کی دیواروں کے پیچھے پوزیشنیں سنبھالیں اور پولیس لائنز کی چھتوں سے بھی فائرنگ کی، جبکہ قریب تعینات پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر مداخلت نہیں کی۔

مینگل نے کہا کہ یہ واقعہ ایک سنگین حفاظتی ناکامی ہے اور اگر صوبائی حکومت نے ان الزامات کی مکمل تحقیقات نہ کیں تو وہ بھی اس غفلت کی ذمہ دار سمجھی جائے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔

دوسری جانب واقعے سے متعلق سرکاری اداروں کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم پولیس غفلت کے الزامات پر حکام کی طرف سے کوئی حتمی موقف سامنے نہیں آیا۔

خضدار اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال طویل عرصے سے ایک حساس مسئلہ رہی ہے، جہاں عسکریت پسندی اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث شہری اور قبائلی حلقے مسلسل مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید