کراچی میں شہریوں نے ریاستی انتظام سنبھال لیا ، دو ڈاکو موقع پر مار دیئے
کراچی میں شہریوں کی فائرنگ کرکے مبینہ ڈاکوؤں میں سے دو ہلاک کردئیے ہیں ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں کراچی کے مختلف علاقوں میں مبینہ ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران شہریوں کی فائرنگ سے دو مشتبہ ڈاکو ہلاک ہو گئے، پولیس کے مطابق دونوں واقعات گلزارِ ہجری اور کیٹل کالونی میں پیش آئے،
پولیس شہریوں کا کہنا ہے جب ریاستی ادارے اور انکے اہلکار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے یا جرائم پیشہ عناصر کے ساتھی بن جائیں تو شہریوں کو اپنی مدد آپ کے تحت متحد ہوکر ہی اپنی جان مال عزت کی حفاظت کرنا ہوگی کہ ریاست تو اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، پولیس کے مطابق مطابق پہلا واقعہ موبینہ ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا، جہاں چار مشتبہ افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر کاؤنٹی گارڈن کے قریب ایک گھر کے باہر پہنچے۔ گھر کے مالک نے اپنے گھر کے باہر بکریاں باندھ رکھی تھیں۔
موبینہ ٹاؤن تھانے کے ایس ایچ او انعام حسین جنجوعہ کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر جانور چوری کرنے کی کوشش کی، جس پر گھر کے مالک نے ایک مشتبہ شخص کو پکڑ لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے ساتھیوں نے اپنے ساتھی کو چھڑانے کے لیے فائرنگ شروع کر دی، تاہم شہری محفوظ رہا۔ اس کے بعد شہری نے مبینہ طور پر اپنے دفاع میں پستول نکال کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ ملزم موقع پر ہلاک ہو گیا۔
پولیس نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت آصف عباس کے نام سے کی ہے، جبکہ اس کے تین ساتھی گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے مشتبہ ملزم کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود تھا اور اس کے خلاف یوسف پلازہ اور گڈاپ سٹی تھانوں میں دو مقدمات درج تھے۔
ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق دوسرے واقعے میں بھی کیٹل کالونی کے علاقے میں ایک مشتبہ ڈاکو شہریوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
کراچی میں شہریوں کی جانب سے مبینہ ڈاکوؤں کے خلاف مزاحمت کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیں اور ایسے معاملات میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں





