زیلنسکی نے ایک سال بعد یوکرین کی وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

زیلنسکی نے ایک سال بعد یوکرین کی وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا

کیف — یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حکومت میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو کو عہدے سے تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد یوکرین کی پوری کابینہ کے مستعفی ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سویریڈینکو نے صرف ایک سال تک وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ صدر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ حکومت میں تبدیلیاں ایک نئی سیاسی حکمت عملی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں، تاہم انہوں نے اس حکمت عملی کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

زیلنسکی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لیے کس شخصیت کو نامزد کریں گے اور نہ ہی یہ بتایا کہ سویریڈینکو کو مستقبل میں کون سی نئی ذمہ داری دی جائے گی۔

یوکرینی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں یولیا سویریڈینکو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے طور پر واضح، مستقل اور مؤثر انداز میں کام کیا۔

زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے سویریڈینکو کو ایک اہم اتحادی ملک کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے اور اہم شعبے کی قیادت کرنے کی پیشکش کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت میں تبدیلی صرف وزیر اعظم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان میں بھی ردوبدل کیا جائے گا۔

یہ سیاسی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران شدید فوجی، اقتصادی اور سفارتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت کو ایک طرف جنگی ضروریات پوری کرنی ہیں، دوسری جانب مغربی اتحادیوں سے مسلسل مالی اور فوجی حمایت برقرار رکھنی ہے۔

یولیا سویریڈینکو یوکرین کی معیشت اور بین الاقوامی مالی تعاون سے متعلق معاملات میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ وہ اس وقت وزیر اعظم بنیں جب ملک جنگی معیشت، تعمیر نو اور عالمی شراکت داری کے ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق زیلنسکی کی جانب سے حکومت میں تبدیلی کا مقصد انتظامی کارکردگی بہتر بنانا، جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینا اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید منظم کرنا ہو سکتا ہے۔

تاہم یہ فیصلہ یوکرین کے اندر سیاسی نظام پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ جنگ کے دوران حکومت میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ عوامی اعتماد، جنگی پالیسی اور بین الاقوامی شراکت داروں کی نظر میں اہم سمجھی جاتی ہیں

قومی خبریں سے مزید