امریکا اور ایران کی نئی فضائی جھڑپوں کے بعد عالمی منڈیوں پر دباؤ، ایشیائی حصص بازار شدید گراوٹ کا شکار
نیویارک — امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر فضائی حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، توانائی کی ممکنہ فراہمی میں رکاوٹ اور آنے والی بڑی کمپنیوں کی مالی رپورٹوں کے انتظار میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
امریکی حصص بازار کے مستقبل کے سودوں میں اتوار کی رات معمولی کمی دیکھی گئی۔ صنعتی اشاریے ڈاؤ جونز کے مستقبل کے سودے ۱۳۵ پوائنٹس یعنی تقریباً صفر اعشاریہ تین فیصد نیچے گئے، جبکہ ایس اینڈ پی ۵۰۰ کے مستقبل کے سودوں میں بھی صفر اعشاریہ تین فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک ۱۰۰ کے مستقبل کے سودے تقریباً صفر اعشاریہ پانچ فیصد گر گئے۔
دوسری جانب ایشیا کی بڑی منڈیوں میں جنوبی کوریا کے حصص بازار کو شدید نقصان پہنچا، جہاں کوسپی اشاریہ تقریباً سات فیصد تک گر گیا۔ سرمایہ کاروں نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث خطرناک اثاثوں سے محتاط رہنے کو ترجیح دی۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکا اور ایران نے ہفتے کے اختتام پر ایک دوسرے کے خلاف دوبارہ فضائی کارروائیاں کیں۔ ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں طویل تعطل پیدا ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی قیمتوں اور افراط زر پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے اور وہاں آمد و رفت جاری ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ یہ کارروائی ایک تجارتی بحری جہاز پر ایرانی حملے کے بعد کی گئی تھی جو آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار دو بڑے خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں: پہلا مشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم کا پھیلاؤ، اور دوسرا عالمی توانائی کی رسد پر اس کے ممکنہ اثرات۔
اگر کشیدگی محدود رہی تو منڈیوں میں دباؤ عارضی ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر آبنائے ہرمز یا خلیجی توانائی تنصیبات کو مسلسل خطرات لاحق رہے تو تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور مہنگائی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کاروباری دنیا کی توجہ اب آنے والے دنوں میں بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج اور واشنگٹن و تہران کے درمیان اگلے اقدامات پر مرکوز ہے، کیونکہ دونوں عوامل عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کا تعین کر سکتے ہیں





