امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی موت شہ رگ پھٹنے کے باعث ہوئی، ابتدائی طبی رپورٹ

امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی موت شہ رگ پھٹنے کے باعث ہوئی، ابتدائی طبی رپورٹ

امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم کی اچانک موت کی ابتدائی طبی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت شہ رگ کے اندرونی حصے میں شگاف پڑنے (ایورٹک ڈسیکشن) کے باعث ہوئی۔

لنزے گراہم ہفتے کی رات 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے طبی معائنہ کار کے دفتر کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سینیٹر کو دل کی شریانوں کی سختی اور بیماری کے باعث شہ رگ میں شگاف پڑا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔

طبی ماہرین کے مطابق شہ رگ جسم کی سب سے بڑی شریان ہے، اور جب اس کی اندرونی تہہ پھٹ جاتی ہے تو خون شریان کی دیوار کے درمیان داخل ہو کر خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ یہ کیفیت اکثر بلند فشار خون سمیت دیگر قلبی مسائل سے منسلک ہوتی ہے۔

گراہم یوکرین کے دورے سے واپس آنے کے چند گھنٹے بعد انتقال کر گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ہفتے کی شام گراہم سے فون پر بات کی تھی اور کہا کہ ’’ممکن ہے وہ ان کی آخری گفتگو ہو۔‘‘

گراہم کے انتقال پر صدر ٹرمپ سمیت دونوں بڑی امریکی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہیں تین دہائیوں پر محیط سیاسی سفر، خارجہ پالیسی میں سخت مؤقف اور کانگریس میں دونوں جماعتوں کے ارکان سے قریبی تعلقات رکھنے والے رہنما کے طور پر یاد کیا گیا۔

گراہم کے دفتر کے مطابق حتمی موت کی تصدیق اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک زہریلے مادوں کے ٹیسٹ اور خوردبینی طبی جائزے مکمل نہیں ہو جاتے۔ اس کے بعد موت کے سرٹیفکیٹ میں حتمی وجہ اور نوعیت درج کی جائے گی

قومی خبریں سے مزید