Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی فیس کی تجویز پر یورپ میں غور، لازمی ٹیکس کی مخالفت

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی فیس کی تجویز پر یورپ میں غور، لازمی ٹیکس کی مخالفت

لندن: یورپی ممالک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مخصوص جہاز رانی خدمات کی فیس عائد کرنے کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم شرط یہ رکھی جا رہی ہے کہ یہ فیس لازمی نہ ہو اور اسے عالمی بحری نقل و حمل کے نگران ادارے کی منظوری حاصل ہو۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایک واضح عوامی بیان جاری کرے جس میں کہا جائے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور بین الاقوامی تجارتی جہاز محفوظ طریقے سے اس اہم بحری راستے سے گزر سکتے ہیں۔

برطانیہ کے نائب وزیر اعظم ڈیوڈ لیمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر لازمی فیس عائد کی گئی تو یہ ایک تباہ کن اقدام ہوگا۔ تاہم برطانوی کابینہ کے بعض دیگر ارکان کا کہنا ہے کہ مخصوص بحری سہولیات، جیسے رہنمائی، نگرانی یا جہاز رانی کی خدمات کے بدلے ادائیگی کے نظام دنیا کے کئی قدرتی آبی راستوں میں پہلے سے موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکام آبنائے ہرمز کے لیے ایسے ماڈل پر غور کر رہے ہیں جس میں فیس کسی زبردستی محصول کے بجائے مخصوص خدمات کے استعمال کے بدلے ہو۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے پر کسی بھی نئی فیس، پابندی یا انتظامی تبدیلی کے عالمی توانائی منڈی، جہاز رانی کے اخراجات اور علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ کسی بھی نئے انتظام کو بین الاقوامی سمندری قوانین کے مطابق رکھا جائے تاکہ اسے تجارتی راستے پر سیاسی دباؤ یا کنٹرول کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے

قومی خبریں سے مزید