کراچی کے سرکاری اسپتال میں خوفناک غفلت، 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

کراچی کے سرکاری اسپتال میں خوفناک غفلت، 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

کراچی: سندھ حکومت نے تصدیق کی ہے کہ کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں کم از کم 78 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیرِ محنت سعید غنی نے اس واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار ڈاکٹروں، افسران اور طبی عملے کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب گزشتہ ہفتے سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو دو ہفتوں کے اندر اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلنے کی وجوہات پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

درخواست گزار طارق منصور نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ آلودہ سرنجوں کے مبینہ دوبارہ استعمال کے باعث درجنوں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔ درخواست میں آزادانہ تحقیقات، مقدمہ درج کرنے، متاثرہ بچوں کے لیے عمر بھر مفت علاج اور مناسب مالی معاوضے کی بھی استدعا کی گئی۔
یہاں یاد رہے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت بلاول بھٹو اور صدر پاکستان آصف علی زرداری بڑے فخریہ دعویٰ کرتے رہے ہیں سندھ کا نظام صحت نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیائ خطے کا سب سے بہترین نظام صحت ہے
کراچی فلم اسکول کی ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ حکومت اس واقعے کو معمولی غفلت نہیں سمجھتی بلکہ اس کی ہر پہلو سے چھان بین کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں کسی ڈاکٹر، افسر یا طبی عملے کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ واقعہ صوبے کے سرکاری صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے، جبکہ متاثرہ بچوں کے اہلِ خانہ فوری انصاف، شفاف تحقیقات اور مستقل علاج کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید