ایران میں کشیدگی اور انتقامی نعروں کا طوفان: سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد تہران میں بڑے جنازے، امریکہ و اسرائیل پر الزامات
تہران میں ایران کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے مبینہ قتل کے بعد ملک بھر میں غیر معمولی سطح کی عوامی اور ریاستی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جہاں لاکھوں افراد جنازے اور جلوسوں میں شریک ہو رہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے۔
تہران میں منعقدہ جنازے کے جلوس کے دوران شریک افراد نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سخت الفاظ اور موت کے مطالبات درج تھے۔ شہر کی مرکزی شاہراہوں پر ہونے والے ان اجتماعات میں ماحول انتہائی جذباتی اور کشیدہ بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے مختلف اعلیٰ حکام اور عسکری قیادت نے اس واقعے کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار عناصر کو “انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا” اور ایران اس معاملے کو ختم نہیں ہونے دے گا۔
جلوس کے دوران ایران کے سیاسی و عسکری حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس قتل کا بدلہ لینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ بعض بیانات میں اسے خطے میں “مزاحمتی محور” کی جدوجہد سے بھی جوڑا گیا ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اسی دوران خطے کی توانائی اور مالی منڈیوں میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی رپورٹ ہوئی ہے جبکہ خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں احتیاطی رجحان غالب رہا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو یہ نہ صرف ایران اور مغربی طاقتوں کے تعلقات کو مزید خراب کرے گی بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی توازن پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے





