جنگ نے ہمیں مضبوط بنا دیا، برطانیہ میں مقیم ایرانی خاتون چار ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے تہران میں تعزیت کے لیے پہنچ گئی
برطانیہ میں مقیم ایک ایرانی خاتون نے چار ہزار کلومیٹر کا طویل سفر طے کر کے تہران پہنچ کر رہبرِ ایران آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات یا ان سے منسوب تعزیتی اجتماعات میں شرکت کی، جسے ایران میں جاری بڑے عوامی اجتماع کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں ہونے والے اس اجتماع میں مسلسل عوام کا تانتا بندھا ہوا ہے، جہاں ملک بھر سے آئے ہوئے شہری اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہر کی فضا سوگوار ہے اور مختلف علاقوں سے آنے والے افراد اسے قومی سطح پر یکجہتی اور مزاحمت کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
برطانیہ سے آنے والی اس خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اور بحرانوں نے انہیں کمزور نہیں کیا بلکہ مزید مضبوط بنایا ہے، اور اسی احساس کے تحت وہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر کے اس اجتماع میں شریک ہونے کے لیے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تہران اس وقت ایک سوگوار دارالحکومت کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں عوام کی بڑی تعداد مسلسل مصلیٰ اور دیگر مقامات پر جمع ہو رہی ہے۔ حکومتی اور عوامی سطح پر اس اجتماع کو قومی اتحاد اور قیادت کے گرد عوامی یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے اجتماعات نہ صرف جذباتی فضا کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اندرونی اتحاد کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں





