ت
واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کے مریخ پر موجود پرسیویرنس روور نے ایسے کیمیائی آثار دریافت کیے ہیں، جو ممکنہ طور پر اربوں سال پہلے مریخ پر موجود خردبینی حیات کے شواہد کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
روور کے شرلاک نامی آلے سے حاصل کیے گئے مشاہدات کے مطابق مریخی چٹانوں میں پیچیدہ نامیاتی کاربن کے سالمات پائے گئے ہیں، جو اس علاقے سے ملے ہیں جہاں ماضی میں پانی کے بہاؤ کے شواہد بھی موجود ہیں۔
یہ چٹانیں برائٹ اینجل نامی خطے سے حاصل کی گئی ہیں، جو قدیم خشک دریا نیریتوا ویلس کے قریب واقع ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ دریا اربوں سال پہلے پانی کو جیزیرو کریٹر تک لے کر جاتا تھا، جو آج مریخ کی سطح پر ایک خشک مگر سائنسی اعتبار سے نہایت اہم خطہ ہے۔
اہرین کا کہنا ہے کہ نامیاتی کاربن کی موجودگی بذاتِ خود زندگی کا حتمی ثبوت نہیں، لیکن یہ اس بات کی مضبوط علامت ہے کہ مریخ پر ماضی میں ایسے کیمیائی حالات موجود تھے جو زندگی کے لیے موزوں ہو سکتے تھے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت مریخ پر قدیم زندگی کے امکان کی تلاش میں ایک اہم پیش رفت ہے، اور مستقبل کے مشنز میں ان نمونوں کا مزید تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ واقعی حیاتیاتی سرگرمی کے آثار ہیں یا محض غیر حیاتیاتی کیمیائی عمل کا نتیجہ





