م
سان فرانسسکو: انسانی اور حیوانی مواصلات کے درمیان فاصلہ کم کرنے کی سمت ایک اہم سائنسی پیش رفت میں ایک محقق کو پرندوں کی آوازوں کے نظام کو سمجھنے پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے تعلق رکھنے والی سائنسدان جولی ایلی کو کولر-ڈولٹل انعام دیا گیا، جو مختلف انواع کے درمیان دو طرفہ مواصلات پر تحقیق کرنے والے محققین کو دیا جاتا ہے۔
ان کی تحقیق میں زیبرا فنچ نامی پرندے کی آوازوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا، جس کے ذریعے انہوں نے یہ سمجھنے میں کامیابی حاصل کی کہ یہ پرندے اپنی شناخت، حالت اور مختلف سرگرمیوں کو مخصوص آوازوں کے ذریعے کس طرح ظاہر کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زیبرا فنچ کی آوازوں میں تقریباً 11 بنیادی اقسام کی آوازیں شامل ہیں، جن کے الگ الگ معانی ہوتے ہیں، جبکہ بعض آوازیں پرندوں کی انفرادی شناخت کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں جانوروں کی زبان سمجھنے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس سے نہ صرف حیوانی رویوں کو بہتر سمجھا جا سکے گا بلکہ انسان اور جانور کے درمیان مواصلاتی تحقیق کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق مزید آگے بڑھی تو آنے والے برسوں میں جانوروں کی آوازوں کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے زیادہ جدید ٹیکنالوجی تیار کی جا سکتی ہے، جو حیاتیات، ماحولیات اور ذہنی علوم میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے





