ایشیا کے سائبر اسکام مراکز میں خواتین پر تشدد اور جنسی استحصال کے انکشافات، بڑے پیمانے پر انسانی اسمگلنگ بے نقاب
لاؤس / جنوب مشرقی ایشیا: حالیہ چھاپوں اور تحقیقات کے بعد ایشیا کے مختلف سائبر اسکام مراکز میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سنگین مظالم، جنسی تشدد اور انسانی اسمگلنگ کے وسیع نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان مراکز میں ہزاروں افراد کو مختلف ممالک سے دھوکے یا زبردستی لایا جاتا ہے، جہاں انہیں سرمایہ کاری کے نام پر آن لائن دھوکہ دہی جیسے جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک منظم فراڈ کا طریقہ ہے، جس میں متاثرین کو طویل عرصے تک جذباتی تعلق میں الجھا کر سرمایہ کاری کے بہانے ان سے بڑی رقوم ہتھیا لی جاتی ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ان کمپاؤنڈز میں کام کرنے والے افراد، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، کو سخت نگرانی میں رکھا جاتا ہے اور ان پر طویل اوقات کار، ذہنی دباؤ اور بعض صورتوں میں جسمانی و جنسی تشدد بھی کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں ایک متاثرہ خاتون سارہ کی مثال دی گئی ہے، جسے لاؤس کے گولڈن ٹرائینگل علاقے میں واقع ایک ایسے کمپاؤنڈ میں رکھا گیا تھا، جہاں ملازمین کو طویل رات کی شفٹوں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور ان کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ نیٹ ورکس اب صرف مالی فراڈ تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ منظم انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے بڑے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں، جن میں مختلف ممالک کے شہریوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر ان مراکز کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جائے، کیونکہ یہ معاملہ اب صرف سائبر کرائم نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے





