پیوٹن کا اعتراف: یوکرینی حملوں کے باعث روس میں ایندھن کی قلت، مگر صورتحال کنٹرول میں
ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے تسلیم کیا ہے کہ ملک کو ایندھن کی “جزوی کمی” کا سامنا ہے، جس کی وجہ یوکرین کی جانب سے روسی بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملے ہیں۔
کریملن کی جانب سے جاری بیان اور انٹرویو میں صدر پیوٹن نے کہا کہ یہ مسائل “واضح ہیں” لیکن ان کے مطابق ابھی یہ بحران کی سطح تک نہیں پہنچے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو چار سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے، اور دونوں طرف سے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کیف کا مؤقف ہے کہ روسی حملے، جو یوکرین کے شہری علاقوں اور توانائی کے نظام کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، ان کے جواب میں یہ کارروائیاں “جوابی کارروائی” ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے اب اس جنگ کا ایک اہم اسٹریٹجک پہلو بن چکے ہیں، جس کا براہِ راست اثر نہ صرف فوجی صلاحیت بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی اور روس کی داخلی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے





