مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگ کا پھیلاؤ، ایران، اسرائیل اور امریکہ کی حکمتِ عملی سے عدم استحکام میں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں پرا کسی جنگ کا پھیلاؤ، ایران، اسرائیل اور امریکہ کی حکمتِ عملی سے عدم استحکام میں اضافہ
یروشلم: ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے غیر ریاستی مسلح گروہوں (پراکسی فورسز) کے استعمال نے خطے میں سیاسی اور سیکیورٹی عدم استحکام کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کی کوششیں اب بھی مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں مختلف ممالک ایک طرف ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے اور ریاستی اتھارٹی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف بڑے علاقائی اور عالمی کھلاڑی اپنی تزویراتی مقاصد کے لیے پراکسی گروہوں پر انحصار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس تناظر میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ سے متعلق بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتا۔
خلیجی رہنماؤں کے مطابق ایران کی جانب سے مختلف مسلح گروہوں کی حمایت—جن میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، عراق میں ملیشیائیں اور یمن میں حوثی تحریک شامل ہیں—علاقائی استحکام کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق کسی بھی حتمی اور جامع معاہدے کے لیے صرف جوہری پروگرام پر پابندیاں کافی نہیں ہوں گی، بلکہ ایران کو اپنی علاقائی پراکسی حکمتِ عملی پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی پراکسی نیٹ ورک مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو “براہِ راست جنگ” سے زیادہ پیچیدہ، طویل اور غیر متوقع بنا رہا ہے، جس کے اثرات خطے کی معیشت، سلامتی اور سفارتی تعلقات پر مسلسل مرتب ہو رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید