کرس مرفی کا ٹرمپ پر سخت حملہ، کہا: “امریکی جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ خود صدر ہیں”
واشنگٹن: امریکی سینیٹر کرس مرفی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ چند انتخابی امیدواروں سے نہیں بلکہ خود صدر ٹرمپ سے ہے، جو ان کے بقول امریکی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
این بی سی کے پروگرام “میٹ دی پریس” میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مرفی نے کہا کہ اصل مسئلہ نیویارک میں چند نشستوں کا نہیں، بلکہ صدر ٹرمپ کے وہ اقدامات ہیں جنہیں وہ امریکی جمہوری نظام کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت یافتہ سیو ایکٹ کا مقصد انتخابی نظام کو اس انداز میں تبدیل کرنا ہے کہ اس سے آئندہ انتخابات پر اثر پڑ سکے۔ مرفی کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے مختلف دھڑے اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کو ٹرمپ کے ان اقدامات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، جنہیں وہ قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنما اور صدر ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سیو ایکٹ کا مقصد صرف انتخابی عمل کی شفافیت کو بہتر بنانا اور صرف اہل امریکی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اس قانون کو ووٹنگ کے حق تک رسائی محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں انتخابی اصلاحات، ووٹنگ کے قوانین اور صدارتی اختیارات کے حوالے سے سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کر رہی ہیں





