آزاد کشمیر میں کریک ڈاؤن کے باوجود حالات معمول پر نہیں آ سکے۔ عوام کی توجہ سیاسی و معاشی مسائل اور نااہلی سے ہٹانے کیلئےحکومت کی تبدیلی اور کرپشن کے سکینڈل سامنے لائے جا رہے ہیں
آزاد کشمیر میں پنجاب پولیس، رینجرز اور ایف سی کی بھاری تعداد میں تعیناتی اور کریک ڈاؤن کے باوجود حکومت اور طاقتور حلقے ابھی تک وادی کشمیر میں حالات معمول پر نہیں لا سکے ہیں۔ زمینی راستے بند ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بدستور بند ہیں۔ دوکانیں ، دفاتر اور اسکول کالج بند پڑے ہیں طالب علموں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہے۔ پاکستان میں مقیم کشمیریوں کو کچھ علم نہیں انکے پیاروں پر کیا بیت رہی ہے ۔ پورے کشمیر میں کھانے پینے کی اشیاء اور دوائیوں کی انتہائی قلت ہے ، مگر کشمیر کے عوام تمام تر ظلم و ستم کے باوجود فسطائیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں ۔ حکومتی وزرا اور جانبدار میڈیا کشمیر ایکشن کمیٹی کے ممبران اور احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو غدار اور بھارت کا ایجنٹ قرار دےرہا ہے ، جبکہ احتجاج کرنے والوں کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کیخلاف ہیں ریاست پاکستان کی مخالفت کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ حکومت پاکستان کے منصوبہ سازکشمیر کی صورتحال سے عوام اور میڈیا کی توجہ ہٹانے کیلئے مرکزی و صوبائی حکومت ،اسکے وزرا کی تبدیلی سے لیکر اہم حکومتی شخصیات کی میگا کرپشن تک متعدد خبریں اور سکینڈل منظر عام پر لیکر آئے ہیں، جو حکومتی ٹرولرز اور تابعدار میڈیا کے ذریعے سامنے لائے جا رہے ہیں ۔





