صومالی قزاقوں کی قید میں 11 پاکستانیوں کی رہائی کا مطالبہ، لندن اور ملبورن میں احتجاج
لندن / ملبورن: صومالی قزاقوں کی قید میں موجود 11 پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے برطانیہ اور آسٹریلیا میں پاکستانی کمیونٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے
برطانوی دارالحکومت لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والے مظاہرے میں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پاکستانی عملے کی فوری رہائی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین کے ایک وفد نے پاکستانی سفارت کاروں سے ملاقات بھی کی اور حکومت سے سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا
اسی طرح آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں شرکاء نے صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت ان کی واپسی کے لیے ہنگامی اقدامات کرے
یہ پاکستانی شہری ایک ماہی گیری کے جہاز کے عملے کا حصہ تھے جسے صومالی قزاقوں نے بحیرہ عرب اور صومالیہ کے ساحلی پانیوں کے قریب اغوا کر لیا تھا۔ صومالی قزاق گزشتہ دو دہائیوں سے بین الاقوامی بحری جہازوں اور ماہی گیر کشتیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں بین الاقوامی بحری نگرانی کے باعث ان کی سرگرمیوں میں کمی آئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق اغوا ہونے والے پاکستانی عملے کو کئی ماہ سے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ مسلسل حکومت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پیارے انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان کی رہائی کے حوالے سے واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی
ماضی میں ایسے واقعات کے دوران حکومتِ پاکستان وزارتِ خارجہ، متعلقہ سفارت خانوں اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے رابطے کرتی رہی ہے۔ بعض مواقع پر مقامی عمائدین، تجارتی نیٹ ورکس اور ثالثی کے ذریعے یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی گئی، تاہم صومالی قزاقی کے معاملات اکثر پیچیدہ اور طویل ہوتے ہیں
عالمی سطح پر United Nations، International Maritime Organization اور مختلف بین الاقوامی بحری اتحاد صومالی قزاقی کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں، لیکن یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی عموماً مذاکرات، ثالثی یا تاوان کے معاملات سے جڑی ہوتی ہے، جن کی تفصیلات اکثر منظرِ عام پر نہیں لائی جاتیں
احتجاجی مظاہروں میں شریک افراد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پاکستان اکثر علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی یا سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن بیرونِ ملک مشکلات کا شکار اپنے شہریوں کے معاملات میں مطلوبہ سرگرمی کیوں دکھائی نہیں دیتی
تاہم سفارتی ماہرین کے مطابق یرغمالیوں کے معاملات انتہائی حساس ہوتے ہیں اور حکومتیں اکثر پسِ پردہ مذاکرات کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ قیدیوں کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ اس وجہ سے عوامی سطح پر ہونے والی سرگرمیاں محدود دکھائی دیتی ہیں، حالانکہ بعض اوقات سفارتی کوششیں جاری ہوتی ہیں
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی کوششیں کر رہی ہے تو متاثرہ خاندانوں کو باقاعدہ آگاہ کیا جائے اور قوم کو بتایا جائے کہ ان پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور آئندہ کا لائحۂ عمل کیا ہے





