ایران جنگ کے اثرات: عالمی فضائی صنعت نئے بحران سے دوچار، ٹکٹ مہنگے ہونے کا خدشہ

ایران جنگ کے اثرات: عالمی فضائی صنعت نئے بحران سے دوچار، ٹکٹ مہنگے ہونے کا خدشہ

ریو ڈی جنیرو: عالمی فضائی کمپنیوں کے سربراہان اس وقت ایک نئے معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور فضائی راستوں کی بندش نے ایئرلائن صنعت کی بحالی کے عمل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

عالمی فضائی ٹرانسپورٹ تنظیم انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کا سالانہ اجلاس 6 سے 8 جون تک ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں دنیا بھر کی ایئرلائنز کے سربراہان بڑھتے ہوئے اخراجات اور مسافروں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر غور کر رہے ہیں۔

ایران جنگ کے نتیجے میں خام تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے بعض فضائی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پروازوں کے دورانیے اور آپریشنل اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ فضائی کمپنیاں ان اضافی اخراجات کا بوجھ کم کرنے کے لیے کرایوں میں اضافے اور پروازوں کی گنجائش محدود کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایئرلائنز اس وقت یہ جانچنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ مسافر کتنی حد تک مہنگے ٹکٹ برداشت کر سکتے ہیں۔ اگر ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو بین الاقوامی اور مقامی فضائی کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

دوسری جانب صنعت کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں نئے مسافر طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ایئرلائنز اپنے بیڑوں میں توسیع نہیں کر پا رہیں، جس سے طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

فضائی صنعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وبا کے بعد سفری طلب مضبوط رہی ہے، تاہم ایندھن کے بڑھتے اخراجات، جغرافیائی کشیدگی اور طیاروں کی قلت مستقبل میں منافع پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال طویل عرصے تک کشیدہ رہی تو عالمی فضائی سفر مزید مہنگا ہو سکتا ہے اور کئی ایئرلائنز کو اپنے مالی اہداف پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید