امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے ڈائریکٹر بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پلٹے انٹیلی جنس یا قومی سلامتی کے شعبے میں براہِ راست تجربہ نہیں رکھتے، تاہم وہ ٹرمپ کے قریبی سیاسی حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بل پلٹے اس عہدے پر ٹلسی گبارڈ کی جگہ لیں گے، جنہوں نے گزشتہ ماہ اپنے شوہر کی بیماری کے باعث عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق پلٹے بیک وقت وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی، فینی می اور فریڈی میک کی سربراہی بھی برقرار رکھیں گے۔ یہ تقرری واشنگٹن میں بحث کا موضوع بن گئی ہے کیونکہ قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر امریکی انٹیلی جنس برادری کی اٹھارہ ایجنسیوں کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ پلٹے کا پیشہ ورانہ پس منظر بنیادی طور پر ہاؤسنگ اور مالیاتی شعبے سے وابستہ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں تجربے کے بجائے سیاسی وفاداری کو ترجیح دی گئی، جبکہ ٹرمپ نے ان کے مالیاتی نظم و نسق کے تجربے کو اس تقرری کی بنیاد قرار دیا ہے۔ پلٹے حالیہ مہینوں میں ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ رہائشی قرض فراڈ کے الزامات اٹھانے اور وفاقی اداروں کو ریفرلز بھیجنے کے باعث بھی خبروں میں رہے ہیں۔ یہ تقرری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کو متعدد عالمی سلامتی کے چیلنجز اور حساس انٹیلی جنس معاملات کا سامنا ہے، جس کے باعث نئے قائم مقام انٹیلی جنس سربراہ کے تجربے اور کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔





