چین کے بارے میں امریکہ کا نرم لہجہ، مگر تائیوان پر مؤقف برقرار؛ ایشیا میں نئی سفارتی چال؟

چین کے بارے میں امریکہ کا نرم لہجہ، مگر تائیوان پر مؤقف برقرار؛ ایشیا میں نئی سفارتی چال؟

سنگاپور میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے چین کے بارے میں گزشتہ بیانات کے مقابلے میں نسبتاً نرم لہجہ اختیار کیا ہے، جسے مبصرین ایشیا میں بدلتی ہوئی سفارتی حکمتِ عملی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان کے معاملے پر امریکی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ واشنگٹن چین کی علاقائی خواہشات اور اس کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں سے آگاہ ہے اور ان کا احترام کرتا ہے، لیکن امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تیاری جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں چین کے ساتھ تعاون بھی ممکن ہے، تاہم حساس مسائل پر امریکی پالیسی برقرار رہے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ واشنگٹن ایک طرف بیجنگ کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب تائیوان اور خطے کے دیگر اتحادیوں کو یہ یقین دہانی بھی کرا رہا ہے کہ ان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نرم الفاظ کے باوجود اصل پالیسی میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے بقول امریکہ اب سخت بیانات کے بجائے محتاط سفارت کاری کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایک جانب چین کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر خراب نہ ہوں اور دوسری جانب خطے میں اپنا اثر و رسوخ بھی برقرار رکھا جا سکے۔

مبصرین کے نزدیک سوال یہ ہے کہ آیا یہ نرم لہجہ مستقبل میں امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کا راستہ ہموار کرے گا یا یہ صرف بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کو سنبھالنے کی ایک عارضی سفارتی تدبیر ہے۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ الفاظ بدل گئے ہیں، مگر تائیوان کے معاملے پر واشنگٹن کی بنیادی پالیسی بدستور اپنی جگہ قائم ہے۔

قومی خبریں سے مزید