مشرق وسطیٰ: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک ممکنہ پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت کسی امن معاہدے کے 30 روز بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ جاپانی اخبار نکئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، فریقین ایک ایسے فریم ورک پر بات کر رہے ہیں جس میں معاہدے کے بعد 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں (مائنز) ہٹائی جائیں گی، جس کے بعد تمام ممالک کے بحری جہازوں کو آزادانہ اور محفوظ آمدورفت کی اجازت ہوگی۔ اس دوران ایران ٹرانزٹ فیس وصول کرنا بھی بند کر دے گا۔ منصوبے کے مطابق ابتدائی طور پر طے شدہ جنگ بندی کو 60 دن تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات جاری رہیں گے۔ یہ پیش رفت Reuters کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جو ایک نامعلوم مشرق وسطیٰ سفارتی ذریعے کے حوالے سے شائع کی گئی۔ آبنائے ہرمز Strait of Hormuz دنیا کی توانائی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی منڈیوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک کا مقصد خطے میں کشیدگی میں کمی اور طویل المدتی امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے





