امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی فوری معاہدے کا تاثر درست نہیں، اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے پیر کے روز کہا کہ معاہدہ “آج بھی ممکن” ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن “دوسرا راستہ” اختیار کرے گا۔ دوسری جانب ایران نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی کسی حتمی اعلان کی توقع قبل از وقت ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اس وقت قطر میں موجود ہیں، جہاں خلیجی ممالک، چین اور دیگر سفارتی حلقے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔ مبصرین کے مطابق قطر اس پورے بحران میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے بھی پیر کی صبح بیان دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات “اچھی طرح” آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی دھمکی دی کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو لڑائی “پہلے سے زیادہ بڑی اور شدید” شکل اختیار کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بیانات سے یہ واضح ہے کہ دونوں فریق ایک طرف جنگ سے بچنے اور عالمی تجارتی راستوں کو بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف دباؤ بڑھانے کے لیے سخت بیانات بھی دیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش یا عدم استحکام عالمی تیل منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بڑے اثرات ڈال سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران فوری سرنڈر یا جلد بازی میں کسی ڈیل کا تاثر نہیں دینا چاہتا، جبکہ واشنگٹن سفارتی دروازہ کھلا رکھتے ہوئے طاقت کے آپشن کو بھی میز پر رکھے ہوئے ہے





