پنجاب اور کے پی میں کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور خان کی رہائی و مہنگائی کے خلاف بڑے احتجاج، انسانی حقوق پر سوالات شدت اختیار کر گئے

پنجاب اور کے پی میں کریک ڈاؤن، گرفتاریوں اور خان کی رہائی و مہنگائی کے خلاف بڑے احتجاج، انسانی حقوق پر سوالات شدت اختیار کر گئے

پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، مختلف اطلاعات کے مطابق پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے، جس کے دوران متعدد افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک کشمیر سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی کو بھی مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا اور ان کے گھر پر چھاپے اور توڑ پھوڑ کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
ان واقعات نے انسانی حقوق کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں اور مبینہ سخت کارروائیوں کے تناظر میں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں، خصوصاً کرک، بنوں، کوہاٹ اور اندرونی اضلاع، میں مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی دباؤ کے ساتھ خان کی اسیری کے خلاف بڑے احتجاجی جلوس دیکھنے میں آئے ہیں۔ ویڈیوز اور مقامی رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی، اور احتجاج کا مرکزی نکتہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات ہیں۔
حکومتی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے اور تازہ اعداد و شمار کے مطابق افراطِ زر تقریباً 14 فیصد کے قریب رپورٹ کیا گیا ہے، جبکہ حکام اسے حالیہ عرصے کی “بہتری” قرار دے رہے ہیں۔ تاہم عوامی سطح پر اس دعوے کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ مہینوں میں مہنگائی کے اعداد و شمار مختلف سطحوں پر متضاد رہے ہیں۔
صورتحال مجموعی طور پر ایک ایسے سیاسی اور معاشی ماحول کی نشاندہی کر رہی ہے جہاں ایک طرف احتجاج اور عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے، اور دوسری طرف ریاستی اقدامات اور گرفتاریوں نے انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

قومی خبریں سے مزید