ٹرمپ کے مشیر ناوارو کی بھارت کو دھمکیوں کے بعد شکایت: ’’بھارتیوں نے مجھے انٹرنیٹ پر فائر بمباری کا نشانہ بنایا، ایسا نہ کریں‘‘
ٹرمپ کے مشیر ناوارو کی بھارت کو دھمکیوں کے بعد شکایت: ’’بھارتیوں نے مجھے انٹرنیٹ پر فائر بمباری کا نشانہ بنایا، ایسا نہ کریں‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارت اور صنعت کے مشیر پیٹر ناوارو نے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر اپنی مسلسل تنقید کے خلاف بھارتی ردعمل کا شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں انٹرنیٹ پر ’’فائر بمباری‘‘ کا نشانہ بنایا گیا،انہوں نے بھارتی ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’ایسا نہ کریں، امریکا میں ہم مسائل اس طرح حل نہیں کرتے،‘‘ یہ بیان انہوں نے 11 اگست کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا
ناوارو گزشتہ ایک سال سے بھارت کی روسی تیل کی خریداری کے شدید ناقد ہیں،ان کا مؤقف ہے کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے بڑے پیمانے پر سستا خام تیل خریدنا شروع کیا اور اس کے نتیجے میں ماسکو کو جنگی اخراجات کے لیے مالی وسائل ملے،وہ بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر ’’کریملن کے لیے لانڈری‘‘ اور محصولات کے معاملے میں ’’محصولات کا مہاراجہ‘‘ جیسے سخت القابات بھی دے چکے ہیں
ناوارو نے اپنی تازہ گفتگو میں کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے بھارت روسی تیل کی تجارت میں اس سطح پر شامل نہیں تھا، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا،ان کے مطابق بھارت نے روسی خام تیل خرید کر اسے صاف شدہ مصنوعات میں تبدیل کیا اور عالمی منڈی میں فروخت کیا، جس سے ان کے بقول روس کی جنگی مشین کو فائدہ پہنچا
دلچسپ بات یہ ہے کہ ناوارو نے اپنی تنقید کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی اپنی تحریروں نے بھارت کی روسی تیل کی خریداری کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے،انہوں نے خاص طور پر فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شاید اس معاملے میں ان کا بھی ’’تھوڑا سا کردار‘‘ رہا ہو
لیکن ان سخت بیانات کے بعد بھارت میں ان کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا،اسی ردعمل کو بیان کرتے ہوئے ناوارو نے کہا کہ انہیں ’’بھارتی برصغیر کی جانب سے انٹرنیٹ پر فائر بمباری‘‘ کا سامنا کرنا پڑا اور ان پر ’’ہر طرح کے گھٹیا حملے‘‘ کیے گئے،پھر انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں سے مسائل حل نہیں ہوتے
اس تنازع کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف بھارت پر روسی تیل کی خریداری ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف واشنگٹن اور نئی دہلی اپنے وسیع تر تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں
اسی گفتگو میں ناوارو نے نسبتاً نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ’’بہت اچھے‘‘ ورکنگ تعلقات ہیں اور دونوں رہنما اس مسئلے کو خود حل کر لیں گے،انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان دونوں کے درمیان ہے اور وہ خود اس کے بیچ میں نہیں آنا چاہتے
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ سے منظور ہونے والے لنڈسے گراہم قانون کے تحت روسی تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے،بھارت اور چین ان ممکنہ اقدامات سے متاثر ہونے والے اہم ممالک میں شامل ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں محصولات 100 فیصد تک پہنچنے کی بات کی جا رہی ہے
بھارت کے لیے معاملہ خاصا حساس ہے،روس اس کی توانائی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے اور نئی دہلی کا مؤقف یہ رہا ہے کہ روسی تیل کی خریداری اس کی توانائی سلامتی اور قومی مفاد سے جڑی ہوئی ہے،گزشتہ برس بھارتی وزارت خارجہ نے بھی ناوارو کے روسی تیل سے متعلق بیانات کو ’’غلط اور گمراہ کن‘‘ قرار دے کر مسترد کیا تھا
یوں ایک عجیب صورت حال پیدا ہو گئی ہے،واشنگٹن بھارت سے روسی تیل چھوڑنے کا مطالبہ کر رہا ہے، ناوارو بھارت پر مسلسل سیاسی اور معاشی دباؤ ڈال رہے ہیں، بھارتی عوام اور سوشل میڈیا ان کے خلاف ردعمل دے رہے ہیں، اور اسی دوران وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ اور مودی کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور دونوں اس مسئلے کو حل کر لیں گے
ناوارو کا ’’فائر بمباری‘‘ والا جملہ اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی غیر معمولی علامت ہے،یہ تنازع اب صرف روسی تیل کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس میں ایک بڑا سوال شامل ہو گیا ہے، کیا بھارت امریکا کا اسٹریٹیجک شراکت دار رہتے ہوئے روس کے ساتھ اپنے توانائی کے تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے،اور کیا ٹرمپ انتظامیہ بھارت کو روس سے دور کرنے کے لیے اتنا دباؤ ڈال سکتی ہے کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کی اپنی شراکت داری ہی متاثر ہونے لگے؟


