آر سی اے ایف افسر کو اعزاز ملنے پر ایران جنگ میں کینیڈا کے کردار پر سوالات
آر سی اے ایف افسر کو اعزاز ملنے پر ایران جنگ میں کینیڈا کے کردار پر سوالات
اوٹاوا: رائل کینیڈین ایئر فورس کے ایک اعلیٰ عہدے دار کو ایک اہم فوجی اعزاز دیے جانے کے بعد ایران جنگ میں کینیڈا کے ممکنہ کردار پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سی ٹی وی نیشنل نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کینیڈین فضائیہ کے ایک اعلیٰ افسر کو ملنے والے اعزاز نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران کینیڈین فوجی اہلکار کس حد تک اتحادی فوجی کارروائیوں میں شامل رہے ہیں۔
کینیڈین حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ کینیڈا ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگی کارروائیوں میں براہِ راست شریک نہیں ہے، تاہم کینیڈین فوج کے بعض اہلکار خطے میں اتحادی فوجی تنصیبات اور کمانڈ ڈھانچے میں موجود رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کینیڈا کا عملی کردار سرکاری طور پر بیان کیے گئے کردار سے کہیں زیادہ تو نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ فوجی افسر کو ملنے والے تمغے نے اس معاملے پر مزید توجہ مبذول کرائی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین اہلکار امریکی فوجی ڈھانچے میں اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے تو یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان کی سرگرمیاں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں سے کس حد تک منسلک تھیں۔
دوسری جانب کینیڈا کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں موجود اس کے فوجی اہلکار اتحادیوں کے ساتھ دفاعی اور دیگر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور کینیڈا نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں براہِ راست شرکت نہیں کی۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد کینیڈین فوجیوں کی خطے میں موجودگی بھی پہلے ہی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ قطر اور بحرین سمیت خطے میں بعض اہم فوجی تنصیبات پر کینیڈین اہلکار موجود رہے ہیں، جس کے باعث ان کی سلامتی اور ممکنہ کردار کے بارے میں سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تازہ تنازع اس بات کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ کینیڈا کو اپنے فوجی اہلکاروں کے کردار، اتحادی فوجی آپریشنز میں ان کی ذمہ داریوں اور ایران جنگ سے متعلق اپنی پالیسی کے بارے میں مزید واضح معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ اگر کینیڈا جنگ میں براہِ راست شریک نہیں، تو اس کے اعلیٰ فوجی افسران اور اہلکار خطے میں اتحادی فوجی نظام کے اندر کس نوعیت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔


