سبھاش چندر بوس کی وراثت سے نئی سیاست کا خواب، چندر کمار بوس نے ’’آزاد ہند پارٹی‘‘ کا اعلان کر دیا، جین زی کے احتجاج سے نوجوانوں کو جوڑنے کی کوشش
سبھاش چندر بوس کی وراثت سے نئی سیاست کا خواب، چندر کمار بوس نے ’’آزاد ہند پارٹی‘‘ کا اعلان کر دیا، جین زی کے احتجاج سے نوجوانوں کو جوڑنے کی کوشش
بھارت میں ایک نئی سیاسی کوشش جنم لینے جا رہی ہے،نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بھتیجے چندر کمار بوس نے ’’آزاد ہند پارٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے اور اس کے لیے اپنی امیدیں بھارت کی نئی نوجوان نسل، خصوصاً جین زی، سے وابستہ کی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ نئی جماعت نیتا جی بوس کے شمولیتی، سیکولر اور قوم پرستانہ تصور کو بنیاد بنائے گی اور موجودہ سیاسی نظام سے مایوس نوجوانوں کو ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرے گی
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی کے جنتر منتر پر حالیہ نوجوانوں کے احتجاج نے بھارتی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے،چندر کمار بوس کے مطابق ان مظاہروں نے انہیں یہ احساس دلایا کہ تقریباً 80 سال بعد بھی بھارت کی نوجوان نسل ایک مرتبہ پھر سیاسی میدان میں اپنی آواز منوانا چاہتی ہے
ان کے مطابق ملک بھر میں بدعنوانی، تعلیم، صحت، صنعت اور انتظامی نظام میں خرابیوں نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے،وہ الزام عائد کرتے ہیں کہ بدعنوانی اب صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ مختلف سرکاری اور معاشرتی اداروں میں بھی سرایت کر چکی ہے
چندر کمار بوس نے انڈیا ٹوڈے سے گفتگو میں کہا کہ نوجوان موجودہ حکومتوں، انتظامیہ اور اداروں سے مایوس ہو رہے ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے لیے سیاسی جگہ درکار ہے،ان کے خیال میں نیتا جی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کے نام اور وراثت سے بہتر کوئی علامت نہیں ہو سکتی جس کے تحت نوجوانوں کو منظم کیا جائے
بی جے پی سے ترنمول کانگریس، اور اب اپنی جماعت
چندر کمار بوس کی اپنی سیاسی زندگی بھی اس نئی جماعت کے لیے ایک اہم پس منظر فراہم کرتی ہے،وہ 2016 میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے تھے اور تقریباً 7 سال تک اس کے ساتھ رہے،ان کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ بی جے پی کے اندر آزاد ہند مورچہ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے نیتا جی کے سیاسی نظریات کو ملک بھر میں فروغ دیا جائے گا
بوس کے مطابق انہوں نے اس وعدے کا تقریباً سات سال انتظار کیا، لیکن یہ پلیٹ فارم قائم نہیں کیا گیا،ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ وعدہ نہ کیا گیا ہوتا تو شاید وہ بی جے پی میں شامل ہی نہ ہوتے
بی جے پی چھوڑنے کے بعد وہ 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے،لیکن یہ سیاسی رفاقت بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی،انہوں نے 3 اگست 2026 کو ترنمول کانگریس سے استعفیٰ دے دیا اور اب محض چند دن بعد اپنی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے
یوں ان کا سیاسی سفر اب ایک دلچسپ موڑ پر پہنچ گیا ہے،پہلے بی جے پی، پھر ترنمول کانگریس اور اب اپنی سیاسی جماعت
’’آزاد ہند پارٹی‘‘ کا نام بھی اتفاقی انتخاب نہیں،بوس براہ راست اپنے خاندان کی سب سے طاقتور سیاسی علامت، یعنی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج، کو نئی نسل کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں
لیکن یہاں ایک بڑا سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے
کیا نیتا جی کا نام اور جین زی کا غصہ مل کر بھارت میں ایک نئی قومی سیاسی قوت پیدا کر سکتے ہیں؟
یہ آسان کام نہیں ہوگا
بھارت میں پہلے ہی سینکڑوں سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور قومی سطح پر جگہ بنانا انتہائی مشکل ہے،چندر کمار بوس کے پاس ایک غیر معمولی خاندانی نام ضرور ہے، لیکن ان کے پاس ابھی کوئی انتخابی تنظیم، مضبوط ریاستی ڈھانچہ یا عوامی ووٹ بینک موجود نہیں
اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کا احتجاج اور انتخابی سیاست دو مختلف چیزیں ہیں
جنتر منتر پر جمع ہونے والا غصہ تعلیم، روزگار، امتحانات، بدعنوانی اور حکومتی نظام کے خلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس غصے کو مستقل سیاسی جماعت، تنظیمی ڈھانچے اور انتخابی ووٹ میں تبدیل کرنا ایک بالکل مختلف مرحلہ ہوگا
بوس کا دعویٰ ہے کہ نئی جماعت ترقی پسند، شمولیتی اور سیکولر نوجوانوں کو اکٹھا کرے گی، ان کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں سے مایوس نوجوان اس نئے پلیٹ فارم کی طرف متوجہ ہوں گے
لیکن یہاں بھی ان کے سامنے ایک مشکل سوال ہے،نوجوانوں کو موجودہ جماعتوں سے نکال کر نئی جماعت میں لانے کے لیے صرف نیتا جی کی تاریخی میراث کافی ہوگی یا انہیں موجودہ دور کے لیے ایک ایسا سیاسی پروگرام بھی دینا ہوگا جو روزگار، تعلیم، مہنگائی، ٹیکنالوجی، مذہبی تقسیم اور معاشی عدم مساوات جیسے مسائل کا قابل عمل جواب دے؟
سبھاش چندر بوس بھارت کی سیاسی تاریخ کی ان چند شخصیات میں شامل ہیں جنہیں مختلف سیاسی دھارے اپنے اپنے انداز میں پیش کرتے رہے ہیں،ان کا نام قوم پرستی، آزادی کی جدوجہد، مضبوط ریاست اور قربانی کے تصور سے جڑا ہوا ہے
چندر کمار بوس اب اسی تاریخی علامت کو ایک ایسے وقت میں دوبارہ سیاسی طور پر متحرک کرنا چاہتے ہیں جب بھارت کی نوجوان نسل روایتی سیاسی تقسیم سے بے زار ہونے کے آثار دکھا رہی ہے
یہی اس کوشش کا سب سے دلچسپ پہلو ہے
وہ ایک تاریخی شخصیت کی وراثت کو نئی نسل کی سیاسی بے چینی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں،اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو ’’آزاد ہند پارٹی‘‘ محض ایک اور چھوٹی سیاسی جماعت نہیں رہے گی بلکہ نیتا جی کی سیاسی میراث کو 21ویں صدی کے نوجوان بھارت میں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش بن سکتی ہے
لیکن اگر جین زی کا موجودہ احتجاجی جوش مستقل تنظیم میں تبدیل نہ ہوا تو یہ جماعت بھی بھارت کی ان بے شمار چھوٹی جماعتوں میں شامل ہو سکتی ہے جو قومی سیاست میں ایک بلند اعلان کے ساتھ داخل ہوتی ہیں مگر چند انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامے سے غائب ہو جاتی ہیں
چندر کمار بوس کے لیے اس وقت سب سے بڑا سرمایہ ان کا نام، نیتا جی کی میراث اور نوجوانوں میں موجود نظام مخالف بے چینی ہے
لیکن سیاست میں اصل امتحان نام سے نہیں، ووٹ سے ہوتا ہے
اور آزاد ہند پارٹی کے لیے اب یہی سب سے بڑا سوال ہے،کیا نیتا جی کی تاریخی میراث اور جین زی کی نئی بغاوت مل کر بھارت میں واقعی ایک نئی سیاسی طاقت پیدا کر سکتی ہیں، یا یہ بھی موجودہ سیاسی نظام سے مایوس ایک اور آواز بن کر رہ جائے گی؟


