Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتجدید بھارت : رام مندر کے سی ای او کی نوکری یا...

ٹرینڈنگ

جدید بھارت : رام مندر کے سی ای او کی نوکری یا مذہبی امتحان؟ امیدواروں سے پوچھا گیا: جنیو پہنتے ہیں، گوشت کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں؟، مگر یہ نہیں پوچھا چندہ چوری تو نہیں کرو گے ؟

جدید بھارت : رام مندر کے سی ای او کی نوکری یا مذہبی امتحان؟ امیدواروں سے پوچھا گیا: جنیو پہنتے ہیں، گوشت کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں؟، مگر یہ نہیں پوچھا چندہ چوری تو نہیں کرو گے ؟

ایودھیا میں رام مندر کے لیے پہلے مستقل چیف ایگزیکٹو افسر کی تقرری کا عمل ایک غیر معمولی رخ اختیار کر گیا ہے،انتظامی تجربے، قیادت اور مندر کے انتظامی وژن کے ساتھ امیدواروں سے ان کی ذاتی مذہبی وابستگی، کھانے پینے کی عادات اور طرزِ زندگی کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ نے تقریباً 5,200 درخواستوں میں سے 18 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا،ان میں سابق آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران اور سابق فوجی افسران شامل ہیں،پہلے مرحلے میں 8 امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے، جبکہ باقی امیدواروں کے انٹرویوز آئندہ دنوں میں متوقع ہیں
لیکن ان امیدواروں کے سامنے جو سوالات رکھے گئے، انہوں نے اس ملازمت کے انتخاب کے عمل کو عام انتظامی تقرری سے بالکل مختلف بنا دیا
رپورٹس کے مطابق امیدواروں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جنیو، یعنی ہندوؤں کا مقدس دھاگا، پہنتے ہیں؟ کیا وہ سبزی خور ہیں یا گوشت کھاتے ہیں؟ کیا وہ شراب پیتے ہیں یا مکمل طور پر شراب سے پرہیز کرتے ہیں؟ کیا وہ خود کو سخت گیر ہندو سمجھتے ہیں یا صرف رام پر عقیدہ رکھتے ہیں؟ اور کیا ان کا لباس ہندو مذہبی روایات کے مطابق ہے؟
اس کے علاوہ امیدواروں سے مذہبی اور سماجی سرگرمیوں میں ان کی شرکت، بھگوان رام سے عقیدت، قیادت کی صلاحیت، انتظامی تجربے اور رام مندر کے مستقبل کے بارے میں ان کے وژن پر بھی سوالات کیے گئے
انٹرویوز بند دروازوں کے پیچھے رام مندر کے احاطے میں قائم گرین ہاؤس میں ہوئے اور ہر امیدوار سے تقریباً 40 سے 50 منٹ تک گفتگو کی گئی،امیدواروں کو انتخابی عمل مکمل ہونے تک میڈیا سے بات نہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ تقرری کسی عام مذہبی عہدے کی نہیں بلکہ مندر کے انتظامی سربراہ کی ہے،مجوزہ سی ای او کو ایک ایسے ادارے کی انتظامی ذمہ داری سنبھالنی ہوگی جو بھارت کے سب سے اہم مذہبی اور عوامی مقامات میں شمار ہوتا ہے
اس عہدے کے لیے مذہبی حساسیت اور مندر کی روایات سے واقفیت یقیناً اہم سمجھی جا سکتی ہے،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی امیدوار کا گوشت کھانا، شراب پینا یا جنیو پہننا اس کی انتظامی صلاحیت کا کس حد تک پیمانہ ہو سکتا ہے؟
یہ سوال اس لیے مزید اہم ہے کہ تقرری کا عمل ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب رام مندر ٹرسٹ کے مالی انتظام پر بھی سوالات اٹھ چکے ہیں، ٹرسٹ کے عطیات میں مبینہ خردبرد کے معاملے میں کئی افراد گرفتار ہو چکے ہیں اور بعض عہدیدار اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں، اسی پس منظر میں ٹرسٹ نے ایک مستقل کل وقتی سی ای او مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مندر کے بڑھتے ہوئے انتظامی اور مالی معاملات کو زیادہ منظم انداز میں چلایا جا سکے، تاہم انٹرویو کیے جانے والے کسی فرد سے یہ نہیں پوچھا گیا وہ چندہ چوری کے معاملے کو کیسے دیکھتے ہیں اور کیا وہ اس عہدے پر مقرر کردئیے جائیں تو وہ خود تو چندہ چوری میں ملوث نہیں ہونگے ؟

اب 18 امیدواروں میں سے ایک نام منتخب کرنا ہے،تین رکنی انتخابی کمیٹی پہلے تین نام تجویز کرے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کرے گا
یہ تقرری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ایودھیا کا رام مندر اب صرف ایک مذہبی مقام نہیں رہا،یہ جدید بھارت کی سیاست، مذہبی شناخت، سیاحت، عطیات، بڑے پیمانے پر زائرین کی آمد اور قومی ثقافتی علامت کا مرکز بن چکا ہے
اسی لیے نئے سی ای او کے سامنے اصل چیلنج صرف مندر کی روزمرہ انتظامیہ نہیں ہوگا،اسے کروڑوں عقیدت مندوں کی توقعات، اربوں روپے کے عطیات، زائرین کے بڑھتے ہوئے دباؤ، سکیورٹی، سہولیات اور ایک انتہائی حساس مذہبی ادارے کی شفاف انتظامی نگرانی کو بھی سنبھالنا ہوگا
اور یہی وجہ ہے کہ اس انتخابی عمل کا سب سے حیران کن پہلو وہ سوال بن گیا ہے جو شاید کسی عام انتظامی ملازمت کے انٹرویو میں غیر معمولی سمجھا جائے گا
آپ مندر چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ آپ جنیو پہنتے ہیں، گوشت کھاتے ہیں اور شراب پیتے ہیں یا نہیں؟
یہ سوال بھارت میں مذہب اور ادارہ جاتی انتظام کے درمیان بدلتے ہوئے تعلق کی ایک چھوٹی مگر غیر معمولی جھلک ضرور پیش کرتا ہے

مزید پڑھیں