Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانملک کی تمام 32 ڈویژنز کو بااختیار انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ

ٹرینڈنگ

ملک کی تمام 32 ڈویژنز کو بااختیار انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ

ملک کی تمام 32 ڈویژنز کو بااختیار انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ملک کی تمام 32 ڈویژنز کو بااختیار انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر مل سکیں۔
سورجانی ٹاؤن میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت اور متحدہ کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چاروں صوبوں میں صوبائی دارالحکومت سے جتنا دور کوئی شہر یا گاؤں ہوتا ہے، وہاں پسماندگی اور محرومی اتنی ہی زیادہ نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ملک کو درپیش بحرانوں کا قابلِ عمل حل ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ صوبے کو تقسیم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ عوام میں موجود محرومی کے احساس کو ختم کرنے کے لیے ہے۔
مصطفیٰ کمال نے تجویز پیش کی کہ سندھ کی موجودہ سات ڈویژنز کو سات الگ بااختیار انتظامی یونٹس میں تبدیل کیا جائے تاکہ مقامی آبادی اپنے علاقوں کے وسائل اور معدنی آمدنی سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکے۔
انہوں نے پنجاب میں 10 اور بلوچستان میں 8 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز بھی پیش کی، تاکہ ملک کے مختلف علاقوں کے عوام کو بنیادی حقوق اور سرکاری سہولتیں ان کی دہلیز پر دستیاب ہوں۔
متحدہ رہنما نے کہا کہ گزشتہ 18 برس کے دوران سندھ کو 22 کھرب روپے ملنے کے باوجود کراچی کے شہری بنیادی شہری سہولتوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے مرکزی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی مرکزیت نے پاکستان اور اس کے عوام کو نقصان پہنچایا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کراچی میں صاف پانی کی قلت، کھلے نالوں میں بچوں کے گرنے کے واقعات اور دیگر شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ناقص طرز حکمرانی کے باعث صنعتی علاقوں کی صورتحال بھی خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے بجلی، گیس اور پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناقص پالیسیوں اور خراب انتظامی نظام کے باعث فیکٹریاں بند اور کاروبار بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ کے رہنما انیس قائم خانی نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام سے بھاری ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں لیکن انہیں بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جاتیں۔
مصطفیٰ کمال نے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لائیں

مزید پڑھیں