میر رضا کی قبر خاموش نہیں، خاندان کی جدوجہد سے موت کا راز بے نقاب
میر رضا کی قبر خاموش نہیں، خاندان کی جدوجہد سے موت کا راز بے نقاب
کراچی: کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا کی موت کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ 25 سالہ میر رضا، جو کاروبار سے وابستہ تھے، کو 29 جولائی کو رہورانیا مسجد کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا تھا، تاہم خاندان کے مسلسل اصرار اور عوامی ردِعمل کے بعد 11 روز بعد ان کی قبر دوبارہ کھولی گئی۔
قبر کشائی کے دوران ڈاکٹروں کی ٹیم، پولیس سرجن، مجسٹریٹ اور اہلِ خانہ موجود تھے۔ طبی معائنے میں ایسے شواہد سامنے آئے جن سے خاندان کے اس خدشے کو تقویت ملی کہ میر رضا کی موت طبعی نہیں بلکہ انہیں مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ میر رضا کے جسم پر موجود زخم موت سے پہلے لگے تھے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے قبر کشائی کے دوران معائنے کی نگرانی کی اور دستیاب شواہد کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
میر رضا کی لاش کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ ان کی موت کے حوالے سے پولیس کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ خاندان یہ جاننے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ نوجوان کاروباری شخصیت کے ساتھ اصل میں کیا ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا کی موت اور قبر کشائی کے درمیان تقریباً بارہ دن گزر چکے تھے، جس کے باعث اہلِ خانہ کے لیے یہ جاننا مزید مشکل ہوگیا کہ موت کی اصل وجہ کیا تھی۔ تاہم قبر دوبارہ کھولے جانے کے بعد سامنے آنے والے طبی شواہد نے معاملے کو ایک نئے رخ پر پہنچا دیا ہے۔
میر رضا کے خاندان اور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر قتل ثابت ہوتا ہے تو ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
میر رضا کا معاملہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی مشتبہ موت کو محض خاموشی کے ساتھ دفن کر دینا انصاف نہیں۔ خاندان کی مسلسل جدوجہد نے ایک ایسے معاملے کو دوبارہ سامنے لایا جس کے بارے میں کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں


