Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںمصنوعی ذہانت کے طوفان نے سافٹ ویئر صنعت کی بنیادیں ہلا دیں،...

ٹرینڈنگ

مصنوعی ذہانت کے طوفان نے سافٹ ویئر صنعت کی بنیادیں ہلا دیں، اربوں ڈالر کی کمپنیاں بقا کی جنگ میں داخل

مصنوعی ذہانت کے طوفان نے سافٹ ویئر صنعت کی بنیادیں ہلا دیں، اربوں ڈالر کی کمپنیاں بقا کی جنگ میں داخل

نیویارک — ایک وقت تھا جب “سافٹ ویئر بطور خدمت” (Software as a Service) کو ٹیکنالوجی کی دنیا کا سب سے کامیاب کاروباری ماڈل سمجھا جاتا تھا۔ سرمایہ کار اربوں ڈالر ان کمپنیوں میں لگا رہے تھے، نئی کمپنیوں کی قدریں آسمان چھو رہی تھیں، اور مستقبل روشن دکھائی دیتا تھا۔ مگر جنریٹو مصنوعی ذہانت نے چند برسوں میں اس پورے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

امریکہ کی متعدد سافٹ ویئر کمپنیاں، جو کل تک سرمایہ کاروں کی پسندیدہ تھیں، آج اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی سطح پر خود کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ روایتی سافٹ ویئر میں مصنوعی ذہانت کا محض اضافہ کافی نہیں، بلکہ پورا نظام نئے سرے سے تعمیر کرنا ہوگا۔

اسی تبدیلی کی ایک مثال “ریٹل” نامی کمپنی ہے، جس نے 2021 میں تقریباً 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی اور اگلے ہی سال اس کی مالیت 100 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ لیکن جنریٹو مصنوعی ذہانت نے وہی دفتری اور انتظامی کام خودکار بنانا شروع کر دیے جن پر کمپنی کا پورا کاروبار قائم تھا۔ کمپنی کے بانی ساحل اگروال کے مطابق، پرانے سافٹ ویئر میں مصنوعی ذہانت شامل کرنا ایسا تھا جیسے گھوڑا گاڑی پر جیٹ انجن لگا دیا جائے؛ مسئلہ حل نہیں ہوتا، صرف پرانا ڈھانچہ مزید غیر موزوں نظر آنے لگتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی صنعت میں اب ایک نئی سوچ ابھر رہی ہے: “جہاز جلا دو اور ابتدا صفر سے کرو۔” یعنی پرانے کاروباری ماڈل کو بچانے کے بجائے مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر نئی مصنوعات تخلیق کی جائیں۔

یہ تبدیلی محض چند کمپنیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری عالمی سافٹ ویئر صنعت کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ جیسے انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون نے گزشتہ دو دہائیوں میں کاروبار کے اصول بدلے تھے، ویسے ہی مصنوعی ذہانت اب یہ طے کر رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں کون سی کمپنیاں زندہ رہیں گی اور کون تاریخ کا حصہ بن جائیں گی

مزید پڑھیں