Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہڈیوک لا اسکول بھی ٹرمپ انتظامیہ کے نشانے پر، نسلی بنیادوں پر...

ٹرینڈنگ

ڈیوک لا اسکول بھی ٹرمپ انتظامیہ کے نشانے پر، نسلی بنیادوں پر داخلوں کا ایک اور تنازع

ڈیوک لا اسکول بھی ٹرمپ انتظامیہ کے نشانے پر، نسلی بنیادوں پر داخلوں کا ایک اور تنازع

واشنگٹن — امریکی محکمۂ انصاف نے ڈیوک یونیورسٹی کے لا اسکول پر داخلوں کے عمل میں نسل کو بالواسطہ طور پر مدنظر رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے نے اگرچہ اپنی پالیسی کو “نسلی طور پر غیرجانبدار” قرار دیا، لیکن ذاتی مضامین، خاندانی تعلیمی پس منظر اور دیگر عوامل کو ایسے طریقے سے استعمال کیا گیا جو عملاً نسلی ترجیح کا متبادل بن گئے۔

ڈیوک یونیورسٹی نے الزامات پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ محکمۂ انصاف کے خط کا جائزہ لے رہی ہے اور قانون کی مکمل پابندی کی پابند ہے۔

یہ تنازع صرف ایک جامعہ تک محدود نہیں۔ 2023 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے نسل پر مبنی داخلہ پالیسیوں کو محدود کرنے کے تاریخی فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کو اعلیٰ تعلیم کے پورے نظام میں نافذ کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ داخلوں کا معیار صرف قابلیت ہونا چاہیے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر جامعات کو معاشرتی اور تاریخی محرومیوں کو بھی مدنظر رکھنے سے روک دیا گیا تو امریکہ کی ممتاز یونیورسٹیوں میں تنوع نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔

یوں ڈیوک کا معاملہ ایک قانونی تنازع سے بڑھ کر اس وسیع قومی بحث کا حصہ بن گیا ہے کہ امریکی جامعات میں مساوات کا مطلب کیا ہے: صرف یکساں قواعد، یا تاریخی عدم مساوات کو بھی کسی حد تک مدنظر رکھنا

مزید پڑھیں