عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو کی سربراہی میں عدالت نے درخواستوں پر سماعت کی، جو عمران خان کی جانب سے ان کی بہن علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ان کی بیٹی مبشرہ خاور مانیکا نے دائر کی تھیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں طویل عرصے سے مبینہ طور پر تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو بنیادی حقوق اور قیدیوں کے قانونی حقوق کے خلاف ہے۔ وکیل کے مطابق عمران خان کو روزانہ تقریباً 22 گھنٹے الگ رکھا جاتا ہے جبکہ بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے تنہائی میں رکھنے کا الزام ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قیدِ تنہائی انتہائی سخت اقدام ہے اور اسے مخصوص حالات میں ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سابق عدالتی فیصلوں اور قیدیوں کے حقوق سے متعلق عالمی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل نے درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نہ علیمہ خان اور نہ ہی مبشرہ مانیکا اس معاملے میں براہِ راست متاثرہ فریق ہیں، اس لیے درخواستیں قابلِ سماعت نہیں۔ نیب نے قیدِ تنہائی کے الزام کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قیدیوں کے ساتھ ایسا کوئی سلوک نہیں کیا جا رہا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی اس وقت 190 ملین پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ احتساب عدالت نے عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔


