آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا مستقبل غیر یقینی، جہاز رانی کمپنیاں محتاط
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا مستقبل غیر یقینی، جہاز رانی کمپنیاں محتاط
لندن: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی کا نظام اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اگرچہ صورتحال میں بہتری کے اشارے سامنے آئے ہیں، تاہم بحری کمپنیوں کو اب بھی محفوظ سفر، انشورنس اور راستوں سے متعلق خدشات کا سامنا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار خصوصاً تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جہاز رانی کی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سیاسی اعلانات کافی نہیں، بلکہ بحری کمپنیوں کو اس وقت تک مکمل اعتماد نہیں آئے گا جب تک محفوظ گزرگاہ، واضح قواعد اور عملی سکیورٹی انتظامات یقینی نہیں بن جاتے۔
بحری آمدورفت میں کچھ بہتری ضرور دیکھی گئی ہے، لیکن جہاز مالکان اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کئی کمپنیاں خطرات کے باعث اپنے راستوں، بیمہ پالیسیوں اور سفری فیصلوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا انحصار خطے کی سیاسی صورتحال، سفارتی مذاکرات کی کامیابی اور طویل مدتی سکیورٹی ضمانتوں پر ہے۔ جب تک یہ عوامل واضح نہیں ہوتے، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر غیر یقینی کے بادل چھائے رہیں گے۔
پاکستان سمیت خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی کے اثرات توانائی کی قیمتوں، درآمدات اور معاشی سرگرمیوں پر پڑ سکتے ہیں


