پاکستان آبنائے ہرمز کشیدگی کم کرنے کے لیے شراکت دار ممالک سے رابطے میں ہے
پاکستان آبنائے ہرمز کشیدگی کم کرنے کے لیے شراکت دار ممالک سے رابطے میں ہے
اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے متعلقہ شراکت دار ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد اور دوحہ کی ثالثی میں ہونے والی کوششوں کے دوران مذاکراتی عمل، رابطہ کاری کے نظام اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس خطے میں امن اور جہاز رانی کا تحفظ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
عالمی سطح پر بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ یہ راستہ تیل اور گیس کی عالمی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف ممالک نے سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششیں کی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات توانائی کی قیمتوں، تجارت اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں


