امریکا کی نئی پالیسی، امیگریشن درخواستیں مسترد کرنے کے لیے حکام کو مزید اختیارات مل گئے
امریکا کی نئی پالیسی، امیگریشن درخواستیں مسترد کرنے کے لیے حکام کو مزید اختیارات مل گئے
امریکی حکومت نے امیگریشن نظام میں نئی پالیسی متعارف کرائی ہے جس کے تحت امیگریشن حکام کو درخواستوں کا جائزہ لیتے وقت زیادہ صوابدیدی اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد حکام بعض درخواستوں کو اضافی عوامل کی بنیاد پر مسترد کر سکیں گے، جس سے امیگریشن فیصلے مزید سخت اور غیر یقینی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت درخواست گزاروں کے حالات، مالی صورتحال، سابقہ ریکارڈ اور دیگر عوامل کو زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے۔ امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے گرین کارڈ، ویزا اور دیگر امیگریشن فوائد حاصل کرنے والوں کے لیے عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد امیگریشن نظام میں نگرانی بہتر بنانا اور ایسے کیسز کی جانچ سخت کرنا ہے جو قوانین کے مطابق مکمل معیار پر پورا نہیں اترتے۔ تاہم امیگرنٹ حقوق کے حامی گروپوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زیادہ اختیارات سے فیصلوں میں غیر یکسانیت پیدا ہو سکتی ہے اور قانونی درخواست گزار بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں امیگریشن قوانین اور سرحدی پالیسیوں پر بحث جاری ہے، اور حکومت کی جانب سے قانونی اور غیر قانونی امیگریشن دونوں شعبوں میں سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


